حکومت کی جانب سے چینی کی ایکس مل قیمت 164 روپے مقرر کرنے کے دعوے کے باوجود چینی مزید مہنگی ہو گئی

0
108
Pakalerts.pk

کراچی — حکومتی دعووں کے برعکس چینی کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، ایکس مل ریٹ 164 روپے مقرر کرنے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہ ملا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں پچھلے دو دنوں سے چینی کی ترسیل بند ہے جس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شہر کی بڑی مارکیٹ جوڑیا بازار میں مسلسل دو روز چینی نہ پہنچنے کی وجہ سے ہول سیل ریٹ میں 2 روپے کا مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ اب ہول سیل میں چینی 184 روپے فی کلو پر فروخت ہو رہی ہے جبکہ ریٹیل قیمت 185 سے 195 روپے کے درمیان ہے۔ چند علاقوں میں چینی 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ اگرچہ حکومت اور شوگر ملز نے طے کیا تھا کہ صارفین کو 165 روپے فی کلو کے حساب سے چینی دستیاب ہوگی، لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہول سیلرز کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتیں کم ہونے کی اُمید ہے، مگر فی الحال مارکیٹ میں شدید بے یقینی کی فضا ہے۔

دوسری طرف، عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث وفاقی حکومت نے چینی کی درآمد کے لیے جاری کیا گیا بڑا ٹینڈر واپس لے لیا ہے۔ پہلے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر اب نیا ٹینڈر صرف 50 ہزار میٹرک ٹن چینی کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے نیا ٹینڈر جاری کر دیا ہے، جس میں 22 جولائی تک بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ اس سے قبل 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی ٹیکس فری درآمد کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس پر آئی ایم ایف نے شدید اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کر لی تھی۔ آئی ایم ایف کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام قرض معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں پاکستان نے نئی ٹیکس چھوٹ یا مراعات نہ دینے کا تحریری وعدہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مؤقف اپنایا کہ ملک میں غذائی ایمرجنسی کی صورتحال ہے، لیکن آئی ایم ایف نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ ایف بی آر کی جانب سے بھی آئی ایم ایف کو باقاعدہ وضاحتی خط ارسال کیا گیا، تاہم اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ معاہدے کی رو سے پاکستان کسی بھی قسم کی نئی ٹیکس چھوٹ دینے کا مجاز نہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے درآمد کا عمل شروع کر دیا، جو معاہدے کی واضح خلاف ورزی شمار ہو رہی ہے۔