پہلی بار بغیر اجازت جلسہ کرنے پر 3 سال اور دوسری بار 10 سال قید کی سزا ہوگی، پرامن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ 2024 صدرکی منظوری کے بعد نافذ ہوگیا
اسلام آباد میں جلسوں پر نئی پابندیاں، 10 سال قید کی سزا کا خطرہ!
اسلام آباد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پرامن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ 2024 کا قانونی بل صدر مملکت کی توثیق کے بعد فوری طور پر نافذ کردیا گیا ہے۔ اس بل کے تحت پہلی بار بغیر اجازت جلسہ کرنے پر تین سال جبکہ دوسری بار غیرقانونی جلسہ کرنے پر دس سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے اسلام آباد میں جلسوں کے لیے مخصوص مقامات کے بل پر دستخط کردیے ہیں، جس کے بعد قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
پرامن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ 2024 صدر کی توثیق کے بعد فوری طور پر نافذ ہوگیا ہے، اور اسلام آباد میں بغیر اجازت جلسہ کرنے پر تین سال اور دوسری بار ایسا کرنے پر دس سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جلسے کے لیے مختص مقام سنگجانی یا حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کوئی اور علاقہ ہوگا۔
اجازت ملنے کے باوجود جلسے کو پولیس افسر کسی بھی وقت منتشر کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر جلسے کی اجازت دے گا۔ اگر ڈپٹی کمشنر اجازت نہ دے، تو اپیل چیف کمشنر سے کی جائے گی۔
چیف کمشنر کے فیصلے کے خلاف سیکرٹری داخلہ سے نظرثانی کی درخواست دی جائے گی۔ حکومت مخصوص علاقوں کو مختص کرے گی جس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں کسی بھی جلسے یا اجتماع کے لیے کم از کم سات دن پہلے ڈی سی کو درخواست دینا ہوگی، جو درخواست جلسے یا اجتماع کا کوئی کوآرڈینیٹر تحریری صورت میں دے گا۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی کے 8 ستمبر کو ہونے والے جلسے کے پیش نظر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے جڑواں شہروں کو بند کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، اور کنٹینرز لگا کر مری روڈ فیض آباد کے مقام پر سڑک کو بند کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کرنے والے افراد ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ راستوں کا استعمال کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ مری روڈ فیض آباد کے مقام پر کنٹینرز سڑک کے اطراف رکھے گئے ہیں۔




























