ہمارا آپریشن ”عزم استحکام “ نیشنل ایکشن پلان کی کڑی ہے

0
104
pakalerts.pk

عزم استحکام کسی ایسے بڑے نئے آپریشن کا نام نہیں ، جس میں کسی علاقے کے عوام کو بے دخل کیا جائے گا، قوم میں انتشار اور مایوسی پھیلانے والوں کو متحد ہوکر شکست دیں گے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا یوم دفاع و شہداء کے موقع تقریب سے خطاب

"جنرل عاصم منیر کا زبردست اعلان: ‘عزم استحکام’ کے تحت قوم کو کیسے متحد کیا جائے گا؟”

راولپنڈی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 ستمبر 2024ء) چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ ہمارا آپریشن "عزم استحکام” نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اور یہ کسی بڑے آپریشن کا نام نہیں ہے جس میں کسی علاقے کے عوام کو بے دخل کیا جائے۔ جنرل منیر نے کہا کہ ہمیں قوم میں انتشار اور مایوسی پھیلانے والوں کو متحد ہو کر شکست دینا ہے۔ جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہداء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے وطن عزیز کے بہادر شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے پاکستان کی بقاء اور تحفظ کو یقینی بنایا۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ قیام پاکستان سے لے کر آج تک تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، جن کے خون نے وطن کی عظمت اور سلامتی کی حفاظت کی۔ پاکستانی قوم کی بہادری کو سراہتے ہوئے، جنرل منیر نے کہا کہ قوم نے ہر آزمائش میں پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ 1448، 1965، 1971، کارگل اور سیاچن کی جنگیں ہوں، ہزاروں شہداء نے وطن کی سلامتی کے لیے قربانی دی۔

دہشتگردی کے خلاف جاری صبرآزما جنگ میں، افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور خیبرپختونخواہ و بلوچستان کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جو ہماری قومی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ جنرل منیر نے سورة آل عمران کی آیت نمبر 169 کا حوالہ دیا کہ "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال میں فتنہ الخوارج اور دوسرے دہشتگردوں کے خلاف بے شمار قربانیوں کا ثمر پاکستان کی سالمیت اور بتدریج استحکام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ وہ اقدامات جو ماضی میں محال تھے، آج حقیقت بن چکے ہیں، جیسے پیغام پاکستان، مغربی سرحدوں کا انتظام، اور قبائلی علاقوں کی صوبے میں شمولیت۔

جنرل منیر نے کہا کہ افواج پاکستان اور عوام کا رشتہ دل کا رشتہ ہے، چاہے بیرونی جارحیت ہو، دہشتگردی کی جنگ ہو، قدرتی آفات ہوں، یا قومی ترقیاتی منصوبے، عوام نے ہمیشہ افواج کو سپورٹ کیا ہے۔ جو قوتیں افواج اور عوام میں خلیج پیدا کرنا چاہتی ہیں، انہیں ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

"عزم استحکام” نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے جس میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ یہ کوئی بڑا آپریشن نہیں ہے بلکہ ملکی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے۔ قوم میں انتشار اور بے یقینی پھیلانے والے عناصر کو متحد ہو کر شکست دی جائے گی، اور قومی یکجتی کو کمزور کرنے کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔