’اب تک تین درجن کرسیاں بھی نہیں بھرسکیں، ویلکم ٹو لاہور!‘ مریم اورنگزیب کا پی ٹی آئی پر طنز

0
76
pakalerts.pk

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے لاہور جلسے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری ملازمین اور وسائل کو استعمال کرکے ایک "انتشاری سرکس” لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں طنز کیا کہ جلسے کا وقت قریب آ گیا ہے، لیکن ابھی تک تین درجن کرسیاں بھی نہیں بھر سکیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کو ایک "عبرتناک نظارہ” قرار دیا اور کہا کہ اس بار سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز کا سہارا لینے کے بجائے حقیقی مناظر عوام کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخواہ کے سرکاری مشینری کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ "انقلاب” نہیں بلکہ خیبرپختونخواہ کی ریسکیو گاڑیاں اور ایمبولنسز لاکر سیاسی انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پنجاب سے مسترد ہو چکی ہے، اس لیے خیبرپختونخواہ کے سرکاری ملازمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی پی ٹی آئی کے جلسے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پر الزام لگایا کہ وہ ڈنڈا بردار فورس اور اسلحہ کے ساتھ لاہور آ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلسے میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون خود اپنا راستہ بنائے گا۔ عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری وسائل جلسے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور عمران خان کے بیٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی جلسے میں شریک ہوتے تو بہتر ہوتا۔

دوسری طرف خیبرپختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے پی ٹی آئی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو "پولیس گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایک مضبوط جماعت ہے جو ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں پولیس پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے اور کل رات ایک کارنر میٹنگ کے دوران 20 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ بیرسٹر سیف نے مریم نواز کو ان اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ پی ٹی آئی پرامن جلسے کی خواہاں ہے، اور حکومت کو بھی ماحول کو پرامن بنانا چاہیے۔

یہ سیاسی جنگ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، اور عوام یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کیا یہ جلسے واقعی عوامی طاقت کا مظاہرہ ہوں گے یا پھر ایک "سرکس” جیسا منظر پیش کریں گے۔