ایشیائی ترقیاتی بنک کاپاکستان کی ماہانہ تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ میں 398فیصد اضافے کا انکشاف

0
93
pakalerts.pk

ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے حالیہ انکشاف میں بتایا ہے کہ جولائی 2023 سے جون 2024 تک پاکستان میں ماہانہ تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ میں مشکوک تجارتی لین دین کا حجم 398 فیصد بڑھ گیا ہے۔ یہ تشویشناک ڈیٹا پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) نے فراہم کیا، جس میں ADB کے ٹریڈ اینڈ سپلائی چین فنانس پروگرام کے تحت کیے گئے ایک پائلٹ پروجیکٹ میں پاکستان کے 10 بڑے بینک شامل تھے۔ اس پروگرام کے ذریعے چار دیگر ممالک، بشمول بنگلہ دیش میں بھی 143 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف (FATF) نے رپورٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس رپورٹ میں پانچ مشکوک تجارتی اشیاء کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں شمسی پینل، ٹیکسٹائل، کیمیکلز، چاول اور صنعتی آلات شامل ہیں۔ مجرم ان اشیاء کو غیر قانونی منشیات اور دیگر ممنوعہ سامان کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ویب سائٹ نے ان تین بڑے طریقوں کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر اپنی غیر قانونی دولت کو قانونی دکھا کر معیشت میں ضم کرتے ہیں۔ ایک ایسا مالیاتی نظام جو استثنیٰ کے ساتھ کام کرتا ہو، اور پاکستانی شہریوں کو کسی بھی غیر ملکی کرنسی کو ملک کے اندر یا باہر لے جانے کی اجازت دیتا ہو، اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ سابق وزیر خزانہ کے فیصلے کے باعث روپے اور ڈالر کی مصنوعی قیمت کو کنٹرول کرنے کے سبب، پاکستانی لوگ غیر قانونی ہنڈی حوالہ نظام کا دوبارہ سہارا لینے پر مجبور ہوئے، جو کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران ختم ہو چکا تھا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، FATF اس معاملے کو بین الاقوامی برادری کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث سمجھتا ہے۔ FATF کے مطابق، تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ (TBML) کا مطلب ہے غیر قانونی دولت کو تجارتی لین دین کے ذریعے جائز دکھانے کی کوشش کرنا۔ یہ طریقہ واردات عموماً درآمدات اور برآمدات کی قیمتوں، مقدار یا معیار کو غلط بیانی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

عالمی مالیاتی کارپوریشن کے مطابق 2008 سے 2017 کے دوران عالمی معیشت میں 8.7 ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور درآمدات میں فرق ظاہر ہوا۔ یہ فرق عالمی سطح پر TBML کی بڑی مثال ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس اور کسٹم محصولات کو نقصان پہنچتا ہے اور ملکی معیشت کو مزید کمزور کرتا ہے۔

عالمی بینک کی ویب سائٹ کے مطابق، جیسے جیسے منی لانڈرنگ کے روایتی طریقے روکے جا رہے ہیں، مجرم مزید پیچیدہ اور جدید اسکیموں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ابھی تک IMF نے TBML پر کوئی باضابطہ پالیسی اپ لوڈ نہیں کی، لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر عالمی ادارے اس مسئلے پر قابو نہ پا سکے تو مستقبل میں قرضے کی شرائط مزید سخت ہوں گی۔

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ TBML جیسے مسائل کو نظرانداز کیا جائے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ملک کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اس بار مؤثر اقدامات کرے گا، اور ڈونر اداروں کی شرائط عائد ہونے سے پہلے اپنی معیشت کو بچا لے گا۔