عمران خان کو رہائی صرف عدالتی جنگ سے ممکن، تحریک سے نہیں: رانا ثناء اللہ

0
115
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

سلام آباد وفاقی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو ممکنہ طور پر عدالتی عمل کے ذریعے رہائی مل سکتی ہے، لیکن تحریک یا احتجاج کے ذریعے وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے پیشگوئی کی کہ 9 مئی کے مقدمات میں عمران خان کی سزا برقرار رہنے کا امکان ہے، کیونکہ ان پر الزامات مکمل طور پر حقائق پر مبنی ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے ہم نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:

  • عدالت ہی فیصلہ کرے گی** کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں کیا ہونا ہے، لیکن "یہ کیس دو جمع دو چار کے مترادف ہے”۔
  • 9 مئی واقعات** کو انہوں نے "ڈرامہ” کہنے کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا: اگر واقعات ہوئے ہیں تو "کسی نے تو کیے ہیں”۔
  • پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج یا تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "5 اگست کو کوئی بڑا بیان یا پریس کانفرنس تو ہو سکتی ہے، لیکن کوئی مؤثر تحریک دکھائی نہیں دیتی”۔
  • انہوں نے کہا:

وادی تیراہ سے متعلق معلومات محدود ہیں، عوام کو افواہوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں اور تفصیلی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیئے۔
اس معاملے پر افواہیں بھارتی سازش ہیں، اور آپریشن مہادیو دراصل بھارت کا "آپریشن سندور” کا نیا روپ ہے۔
پاکستان کی افواج اور عوام دشمن کے خلاف "سیسہ پلائی دیوار” ہیں اور حالات قابو میں ہیں۔
قبائلی عمائدین بھی دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ جو لوگ بیرونی فنڈنگ لے رہے ہیں انہیں بھی واضح پیغام ہے۔

علی امین گنڈاپور اور خیبرپختونخواہ کی صورتحال

رانا ثناء اللہ نے کہا:

علی امین گنڈاپور کی سیاست کا کوئی بڑا اثر نہیں، وہ محض بیانات کی حد تک متحرک ہیں۔
خیبرپختونخواہ کی صورتحال مختلف ہے اور پی ٹی آئی وہاں سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی نے آپریشن سندور کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کے خلاف کوئی عمل کیا، تو "پھر انجام سب کے سامنے ہوگا”۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس کا خلاصہ سوشل میڈیا یا نیوز ہیڈلائن اسٹائل میں بھی بنا سکتا ہوں۔

سورس اردو پوائنٹ