وزارت دفاع کا عمران خان کے ممکنہ ملٹری ٹرائل سے متعلق لاعلمی کا اظہار

0
90
pakalerts.pk

وزارت دفاع نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ممکنہ ملٹری ٹرائل سے متعلق لاعلمی کا اظہار کر دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی، جہاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بیان دیا کہ وزارت دفاع کے پاس آج تک عمران خان کی ملٹری حراست یا ٹرائل کی کوئی اطلاع نہیں، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری سے گفتگو کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "حکومت کے بیان کے بعد آپ کی درخواست قبل از وقت ہے۔ عدالت آپ کی بے چینی سمجھتی ہے لیکن آپ ہماری حدود کو بھی سمجھیں۔ میرے پاس اس کیس میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔”

گزشتہ سماعت پر، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل سے عمران خان کے ملٹری ٹرائل ہونے یا نہ ہونے کی وضاحت طلب کی تھی۔ سماعت کے دوران، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا، "آپ کہہ رہے ہیں کوئی کیس نہیں لیکن آگے ہو سکتا ہے؟” جس پر وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا، "ہمیں خدشہ ہے۔” عدالت نے کہا کہ "یہ سیاست ہے۔” وکیل بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ "ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان آیا ہے۔” جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ "وہ بھی سیاست ہے۔”

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ "اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیداروں کی طرف سے بیانات دیے گئے ہیں۔” اس موقع پر عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ کو روسٹرم پر طلب کیا اور ہدایت دی کہ "اٹارنی جنرل آفس سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں، کیونکہ وزراء کی طرف سے ملٹری ٹرائل کی دھمکی دی گئی ہے۔ عمران خان ایک سویلین ہیں اور کسی سویلین کا ملٹری ٹرائل عدالت کے لیے تشویش کی بات ہے۔”

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ "حکومت سے معلوم کریں کہ کیا عمران خان کے ملٹری ٹرائل کا معاملہ زیر غور ہے؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی، لیکن اگر ایسا کچھ زیر غور ہے تو پھر ہم اس کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے۔” ان ریمارکس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر عائد اعتراضات دور کر دیے اور رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے 16 ستمبر تک وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔