پاکستان سے یو اے ای کی پروازوں کے کرایے میں بھاری اضافہا

0
144

دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست 2024ء) پاکستان سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والی پروازوں کے کرایے میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے، جو خاص طور پر محنت کشوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستان نے یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے پرواز کرنے والے مزدوروں پر 5 ہزار روپے (تقریباً 66 درہم) کی فکسڈ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ اس نئے ٹیکس کی وجہ سے مزدوروں کے لیے سفر کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے، اور یہ فیصلہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو آف پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا۔

نیا ٹیکس: مزدوروں پر بوجھ

نوٹیفکیشن کے مطابق، خلیجی ممالک کے لیبر ویزے پر جانے والے مزدوروں کو 5 ہزار روپے فی ٹکٹ کی فکسڈ ڈیوٹی ادا کرنی ہوگی۔ یو اے ای میں مزدوروں کے طور پر کام کرنے والے پاکستانی شہریوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علی احمد، جو کہ یو اے ای میں ایک نجی کمپنی میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ "یہ ہمارے جیسے محنت کشوں پر اضافی بوجھ ہے۔ 5 ہزار روپے پاکستان کے غریب علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے ایک بڑی رقم ہے، جو اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔”

ہوائی کرایوں میں اضافے کا اثر

خلیجی ممالک میں، خصوصاً یو اے ای میں، جنوبی ایشیائی مزدوروں کی بڑی تعداد مقیم ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فضائی سفر ہمیشہ سے ہی مصروف ترین رہا ہے۔ سیٹ کی دستیابی کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی ہوائی کرایہ زیادہ تھا، اور اس نئے ٹیکس نے مزدوروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

معاشی چیلنجز اور مزدوروں کی مشکلات

حالیہ برسوں میں پاکستان میں روزگار کی کمی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے ملازمتوں کی تلاش میں بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مزدور یو اے ای اور دیگر جی سی سی ممالک میں جا کر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان مزدوروں کی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس لیے اس نئے ٹیکس کے فیصلے پر کئی حلقے تنقید کر رہے ہیں۔

نتیجہ

پاکستانی حکومت کو اس فیصلے کے اثرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں پہلے ہی معاشی مشکلات ہیں۔ کیا یہ اضافی ٹیکس مزدوروں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا؟ یا کیا حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے؟ وقت ہی اس سوال کا جواب دے گا۔