یورپی یونین سے تجارتی معاہدہ طے پا گیا، امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان

0
119

یورپی مصنوعات پر بنیادی سطح پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جولائی 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یورپی یونین کی صدر اُرسولا وان ڈیر لاین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کر لیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے سکاٹ لینڈ کے شہر ٹرن بیری میں اپنے گالف ریزورٹ پر وان ڈیر لاین سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’’ہم ایک معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں اور یہ ہر کسی کے لیے اچھا معاہدہ ہے‘‘۔ اس موقع پر یورپی یونین کی صدر نے بھی اسے مثبت معاہدہ قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر بنیادی سطح پر 15 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جو کہ جاپان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے برابر ہے۔ تاہم ہوائی جہاز اور مشروبات جیسے اہم شعبوں میں کچھ چھوٹ دی جائے گی لیکن شراب کو اس رعایت میں شامل نہیں کیا گیا۔ یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک نے مجموعی طور پر اس مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی یہ کوشش رہی کہ وسیع پیمانے پر محصولات سے بچا جا سکے جو اس کی کمزور معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یورپی یونین امریکی مائع قدرتی گیس کی خریداری میں اضافے پر متفق ہو گئی ہے اور دیگر سرمایہ کاری سے متعلق یقین دہانیاں بھی کروائی گئی ہیں۔ آئرلینڈ کی اہم برآمد، یعنی ادویات پر بھی 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ یورپی یونین نے اسٹیل پر بھی ایک مفاہمت حاصل کی ہے، جس کے تحت مخصوص مقدار امریکی مارکیٹ میں بغیر محصول کے داخل کی جا سکے گی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ دنیا بھر کے ساتھ امریکی تجارتی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک یکم اگست تک واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہیں کریں گے، انہیں سخت تجارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ آخری تاریخ ہے اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی کیونکہ ٹرمپ نے 90 دنوں میں 90 معاہدے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اب تک ان کی انتظامیہ صرف پانچ معاہدوں کا اعلان کر چکی ہے جن میں برطانیہ، جاپان اور فلپائن کے ساتھ ہونے والے معاہدے شامل ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی عوام ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی سے ناخوش ہیں اور ان کی مقبولیت گر کر 37 فیصد پر آ گئی ہے، جو جنوری کے مقابلے میں 10 پوائنٹس کم ہے۔

سورس اردو پوائنٹ