108 تحائف اور نیب کی گرفتاریوں کا نیا ہنگامہ: کیا ہر تحفے پر الگ گرفتاری؟

0
110

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے حوالے سے ایک دلچسپ مکالمہ دیکھنے کو ملا جہاں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیس میں 108 تحائف کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا ہر تحفے کے لیے نیب الگ الگ گرفتاری ڈالے گا؟

بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بشریٰ بی بی کی مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل سردار شہباز کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 31 جنوری کو سزا سنائی گئی تھی، جو بعد میں معطل ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کو دیگر مقدمات میں بریت بھی مل چکی ہے۔

نیب کی تفتیش اور عدالت کی تنقید

جسٹس اورنگزیب نے نیب کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا نیب 108 تحائف کے لیے الگ الگ گرفتاریاں کرے گا؟ کیا ہر بریت کے بعد نیب نئی گرفتاری ڈالے گا؟ نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہی تھیں، اور ان کی گرفتاری محض اتفاق تھا۔

عدالتی احکامات اور کیس کی سماعت

عدالت نے بشریٰ بی بی کی مزید مقدمات میں گرفتاری روکنے کی درخواست کو دیگر کیسز کے ساتھ سنا جائے گا اور کیس کی فائل چیف جسٹس کو ارسال کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

نتیجہ

یہ کیس ایک بار پھر نیب کی تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتا ہے، اور دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں عدالت اور نیب کے درمیان یہ مکالمہ کس سمت میں جاتا ہے۔