وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کا 200 فیصد احتساب ہونا چاہیے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ملٹری ٹرائل بھی ممکن ہے۔ خواجہ آصف نے جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو 9 مئی کے واقعات پر تاسف ہے تو آگے بڑھا جا سکتا ہے، لیکن جب تک پی ٹی آئی اس واقعے پر معافی نہیں مانگتی، مذاکرات ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 75 سال سے فیصلے کرنے والی بیوروکریسی اور عدلیہ کو بھی اپنے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ خواجہ آصف کے مطابق، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیلئے اس وقت ماحول سازگار نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر تین بار عمران خان کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی، لیکن عمران خان یا ان کے کسی رہنما نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بارہا میثاق معیشت کی تجویز دی، لیکن اس پر بھی کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ عمران خان، جو کبھی اس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے تھے، اب اپوزیشن کی جانب پشت کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں صرف پنجاب کے بلدیاتی انتخابات اور بجلی کے بلوں پر گفتگو ہوئی، اور پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت پر کوئی بات نہیں کی گئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما خود عمران خان پر اعتماد نہیں کرتے اور ان کی ابن الوقتی پر شکوے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی باتیں خلوص سے خالی ہیں۔




























