جماعت اسلامی کا وکلا تحریک کی حمایت کرنے اور آئینی ترمیم کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

0
75

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے آئینی ترمیم کے ذریعے ججز کی تعیناتی کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ کسی فرد کا نہیں بلکہ طریقہ کار کا ہے اور سنیارٹی کے اصول کو برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مک مکا کے ذریعے ترمیم کو منظور کرایا، اور پی ٹی آئی نے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی میں نام دے کر اور بعد میں بائیکاٹ کر کے اس معاملے کو مشکوک بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس آئینی ترمیم کے خلاف عدالت میں جائے گی اور وکلا تحریک کی حمایت کرتی ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی الیکشن دھاندلی کے خلاف جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، اور ملک میں تمام سیاسی قیدیوں، بشمول بانی پی ٹی آئی، کو رہا کیا جانا چاہیے۔

الخدمت فاؤنڈیشن کی میگا پلانٹیشن ڈرائیو میں شرکت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک سال میں گیارہ لاکھ درخت لگانا قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ آلودگی اور سموگ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا تناسب 5 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ اسے کم از کم 10 فیصد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔