عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ٹیکس اہداف پورے نہ ہونے پر حکومت سے 500 ارب روپے کے منی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت اضافی ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ورچوئل بات چیت میں ٹیکس اہداف پر نظرثانی کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد حکومت کو ٹیکس کے خسارے سے نمٹنے کے لیے منی بجٹ پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔
ایف بی آر کو رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں 188 ارب 80 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ادارے کا ہدف 3631 ارب 40 کروڑ روپے تھا، لیکن جمع شدہ رقم 3442 ارب 60 کروڑ روپے رہی۔ اکتوبر کے مہینے میں بھی ایف بی آر کا ہدف 980 ارب روپے تھا، لیکن صرف 879 ارب روپے جمع کیے جا سکے، جس سے 101 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہوا۔
ٹیکس اہداف میں ناکامی اور اس سے پیدا ہونے والے مالیاتی خسارے سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر نے تقرریوں اور تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ گریڈ 20 اور 21 کے اٹھارہ افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں، جس میں کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کے لارج ٹیکس پیئرز آفس کے چیف کمشنرز شامل ہیں۔
ایف بی آر اور حکومتی اقدامات کے باوجود ٹیکس اہداف میں یہ کمی ملک کی مالیاتی پالیسیوں اور منصوبوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے، جس کے باعث آئی ایم ایف کی دوسری قسط میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔




























