سندھ اسمبلی نے آئینی بینچز کے قیام کے حوالے سے ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ضیاء لنجار نے قرارداد پیش کی، جس کی متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے حمایت کی، جبکہ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے اس کی مخالفت کی۔ 147 ارکان اسمبلی نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اور بالآخر قرارداد 123 ووٹوں کے ساتھ منظور کر لی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس قرارداد کا مقصد لوگوں کو جلد انصاف فراہم کرنا اور عدالتوں میں زیر التوا کیسز کو جلد نمٹانا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تمام صوبوں کو فائدہ پہنچے گا، اور سندھ میں ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سالوں سے زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔
ضیاء لنجار نے آئین کے آرٹیکل 202 اے کے سب کلاز 6 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی بینچز کے قیام کے لیے یہ قرارداد ضروری تھی اور اسے صحیح وقت پر پیش کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پیپلز پارٹی نے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔




























