قبائل کو وسائل سے محروم نہ کیا جائے، مشرف کی پالیسیوں کے تباہ کن نتائج آج بھی برقرار ہیں
پشاور (این این آئی – 30 جولائی 2025) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری فوجی آپریشنز سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ ماضی کی کارروائیوں سے سبق سیکھیں اور پائیدار حل کی طرف بڑھیں۔
پشاور میں امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت مخصوص قانون سازی کے ذریعے قبائلی علاقوں میں موجود معدنیات پر قبضہ نہ کرے، کیونکہ آئین کے مطابق وسائل پر پہلا حق اسی علاقے کے عوام کا ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں۔
یہ جرگہ جماعت اسلامی کی جانب سے صوبے میں خراب امن و امان، کرفیو اور آپریشنز کے تناظر میں بلایا گیا۔ امیر جماعت نے پروفیسر محمد ابراہیم کو ذمہ داری سونپی کہ وہ دیگر سیاسی رہنماؤں اور قبائلی زعماء سے مشاورت کر کے احتجاجی حکمت عملی طے کریں، چاہے وہ اسلام آباد مارچ ہو یا دھرنا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس احتجاجی تحریک میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ جرگہ میں سابق گورنر شوکت اللہ خان، پروفیسر محمد ابراہیم، عنایت اللہ، عبدالواسع، وکلاء رہنما امین الرحمن یوسفزئی، ہارون الرشید، اخونزادہ چٹان، تاجر اور صحافی برادری سمیت اہم قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکہ کے مفادات کے لیے جو پالیسی اپنائی، اس کے نتائج سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔ انہوں نے کہا کہ بائیسویں آپریشن شروع کرنے سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ گزشتہ 21 آپریشنز کا نتیجہ دیکھے—کیا ان سے کوئی دیرپا امن حاصل ہوا؟
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مختلف قومیتوں کا ملک ہے اور ان میں کوئی دشمنی نہیں، اصل فساد وہ حکمران پھیلاتے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے اقتدار میں ایک ہو جاتے ہیں اور امن کی بات آئے تو بے بسی ظاہر کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی اکیلا عقل کل نہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر ہی مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں، کیونکہ پرامن افغانستان دونوں ملکوں کے لیے مفید ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ بعض عناصر بھارت کے ساتھ تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن کشمیر کے معاملے پر وہی جذبہ غائب ہوتا ہے۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، بھارت سے تجارت ناقابل قبول ہے، نہ ہی کسی قسم کی ثالثی قبول کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی گھروں کی جبری خالی کروا کر آپریشنز کرنے کے خلاف ہے، کیونکہ ان میں بے گناہ شہری، خواتین اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، جیسے بلوچستان کے عوام اپنے حقوق کے لیے لانگ مارچ کر رہے ہیں، جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ جذباتی نعروں سے نکل کر تعمیری احتجاج کی طرف آئیں اور اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے اجاگر کریں۔
سورس اردو پوائنٹ




























