وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین خان گنڈاپور نے "یوم شہدائے پولیس” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس نے عوام کی جان و مال اور امن عامہ کے تحفظ کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے نڈر اور باوفا افسر صفوت غیور شہید کی یاد میں ہر سال 4 اگست کو یوم شہداء مناکر ایک عظیم روایت قائم کی ہے، جو زندہ قوموں کی پہچان ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے خلاف جس دلیری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس جنگ میں سپاہیوں سے لے کر اعلیٰ افسران تک ہر سطح پر اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم پر احسان کیا ہے۔ پولیس فورس نے ہر محاذ پر سماج دشمن عناصر کا بھرپور مقابلہ کیا اور امن کی بحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
علی آمین گنڈاپور نے کہا کہ ہم اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے ہمیشہ مشکور رہیں گے۔ حکومت شہداء کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک مربوط نظام قائم کیا جا چکا ہے۔ پولیس شہداء کے اہل خانہ کو مفت رہائشی پلاٹس فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کے بچوں کے لیے اے ایس آئی کی نوکریوں کا کوٹہ 5 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 281 نوجوانوں کو بھرتی بھی کیا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں تمام رینکس کے شہداء کے مالی پیکیج میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ ہم نے پولیس کا سالانہ بجٹ گزشتہ سال 124 ارب سے بڑھا کر 158 ارب روپے کر دیا ہے تاکہ فورس کی ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی اضلاع میں 2500 نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع میں پہلی بار ایلیٹ فورس کی تعیناتی کے لیے 1196 اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں پنجاب اور بلوچستان پولیس کے برابر کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں پولیس فورس کو مضبوط بنانے کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کے آلات اور اسلحہ خریدا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے وسائل کی کمی کبھی آڑے نہیں آنے دی جائے گی۔ پولیس کی تمام ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔
سورس اردو پوائنٹ




























