اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حکام نے ان سے فلسطینی کارکنوں سے متعلق حساس معلومات کا مطالبہ واپس نہ لیا، تو وہ جلد ہی اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ ادارے، جو اقوام متحدہ کے ساتھ فلسطینی علاقوں میں مل کر کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 9 ستمبر یا اس سے پہلے زیادہ تر بین الاقوامی تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ ہو جائے گی، جس کے بعد انہیں اپنا غیرملکی عملہ واپس بلانا پڑے گا، اور وہ امداد کی فراہمی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی نمائندے ان سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
اس امدادی ٹیم میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور 200 سے زائد مقامی و غیرملکی این جی اوز کے مقامی سربراہ شامل ہیں۔ اسرائیل نے 9 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ ان اداروں کو اپنے فلسطینی عملے کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس فیصلے کا اطلاق غزہ اور مغربی کنارے دونوں علاقوں پر ہو گا۔
غزہ میں متعدد بین الاقوامی ادارے مقامی این جی اوز کے ساتھ مل کر خوراک، طبی امداد اور دیگر ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ ان شراکت دار تنظیموں کا ان سرگرمیوں میں کلیدی کردار ہے، جن میں سامان، تکنیکی مہارت اور وسائل کی فراہمی شامل ہے۔
فیصلہ واپس لینے کی اپیل
امدادی اداروں نے واضح کیا ہے کہ نچلی سطح پر کام کرنے والی این جی اوز کے بغیر ان کی سرگرمیاں ناممکن ہو جائیں گی۔
اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد خوراک، ادویات، رہائش اور ضروری تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں۔
پہلے ہی، غیررجسٹرڈ تنظیموں کو غزہ میں امداد فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ پچھلے مہینے، اسرائیلی حکام نے 29 ایسی درخواستوں کو مسترد کر دیا جن میں غزہ میں امداد لے جانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے ادویات، خوراک اور صفائی کے سامان کی ترسیل بند ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے استحصال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امدادی اداروں سے ملازمین کی نجی معلومات طلب کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ اس سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بھوک، افراتفری اور اموات
اطلاعات کے مطابق، ایک روز قبل وسطی غزہ میں چار امدادی ٹرکوں پر ہجوم چڑھ گیا، جس کے نتیجے میں وہ الٹ گئے اور کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ دیرالبلح کے جنوبی علاقے میں پیش آیا۔
اقوام متحدہ کے امدادی دفتر (OCHA) کے مطابق، 20 جولائی کے بعد سے آنے والی 90 فیصد امداد کو بھوکے ہجوم یا مسلح افراد نے ٹرکوں سے اتار لیا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی چیک پوسٹوں کے قریب امدادی قافلوں سے خوراک لینے کی کوشش کرنے والے افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق، 27 مئی سے 4 اگست تک امداد کے مراکز یا قافلوں کے راستے میں 1,516 افراد ہلاک اور 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔




























