کانگو: روانڈا کے حمایت یافتہ گروہوں کی پرتشدد کارروائیوں سے امن کی راہ میں رکاوٹ

0
95

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں روانڈا کے تعاون سے فعال ایم 23 ملیشیا اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے مظالم نے خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) کی رپورٹ کے مطابق 9 سے 21 جولائی کے درمیان شمالی کیوو صوبے میں ایم 23 کے حملوں کے نتیجے میں 319 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 48 خواتین اور 19 بچے شامل ہیں۔

اکثر متاثرین مقامی کسان تھے جو اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ان واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جنگ بندی کے باوجود ایسے حملے نہایت افسوسناک ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عام شہریوں پر تمام قسم کی پرتشدد کارروائیاں فوراً بند کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی

یہ پرتشدد کارروائیاں ان حالات میں سامنے آئی ہیں جب حال ہی میں کانگو اور روانڈا نے 27 جون کو واشنگٹن میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد دوحہ میں مزید مذاکرات کے نتیجے میں فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور دیرپا امن کے لیے پیش رفت کی امید ظاہر کی گئی۔

تاہم انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔

وولکر ترک نے دونوں ممالک اور معاہدے کے سہولت کاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں۔

عام شہریوں کے خلاف مسلسل حملے

ایم 23 کے ساتھ ساتھ دیگر گروہ بھی مشرقی کانگو میں عام آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
27 جولائی کو متحدہ جمہوریہ فورسز (ADF) نے اتوری صوبے میں ایک چرچ پر حملہ کر کے 13 بچوں سمیت کم از کم 40 افراد کو قتل کیا۔ ان حملوں میں گھروں، گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس سے پہلے پیکامائبو گاؤں میں بھی اس گروہ نے 70 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

خواتین اور لڑکیاں بھی مسلسل جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔
27 جولائی کو جنوبی کیوو میں رایا موتومبوکی/وازالینڈو جنگجوؤں نے 8 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بگڑتا انسانی بحران

اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی کانگو میں اب تک 78 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 2 کروڑ 80 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں سے 40 لاکھ شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

اپریل کے بعد سے جنوبی سوڈان سے 30 ہزار پناہ گزین اتوری میں داخل ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ امدادی فنڈز میں کمی کے باعث بہت سے متاثرہ افراد تک مدد پہنچانا ممکن نہیں رہے گا۔

یو این ایف پی اے کے مطابق، ان شورش زدہ علاقوں میں صحت کی سہولیات پر بھی شدید دباؤ ہے۔ صرف رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں طبی عملے اور مراکز پر 33 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کی نسبت 276 فیصد زیادہ ہیں۔