امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرِش مرز، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُتے، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹبز سے ملاقات کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اس ملاقات کا مقصد اجتماعی طور پر ماسکو کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی تلاش کرنا ہے۔ اس دوران امریکا کی جانب سے یوکرین کو سیکیورٹی ضمانتیں دینے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ یہ ملاقات الاسکا میں ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سربراہی ملاقات کے بعد ہورہی ہے جو کسی جنگ بندی کے بغیر ختم ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے بعد ازاں کہا کہ وہ اب ایک امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر انہوں نے لکھا کہ روس کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہوئی ہے، تاہم مزید تفصیل نہیں دی۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ٹرمپ اور پیوٹن نے یوکرین کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتوں پر بات کی، لیکن زیلنسکی نے روس کی کسی بھی ضمانت کو مسترد کردیا۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی ضمانتیں پیوٹن سے زیادہ اہم ہیں، کیونکہ پیوٹن کوئی حقیقی ضمانت نہیں دے سکتے۔ وان ڈیر لیین نے امریکا کی پیشکش کو سراہا اور کہا کہ یہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی اجتماعی سیکیورٹی کا متبادل ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا امن معاہدے کی طرف جھکاؤ روسی موقف سے قریب ہے، جس پر یوکرین اور اس کے اتحادی شکوک کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ صرف پیوٹن کے لیے وقت حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین ڈونباس کے دو خطے چھوڑ دے جبکہ روس خیرسون اور زاپوریزیا میں اپنی پیش قدمی روک دے۔ زیلنسکی نے اس شرط کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
اس دوران کیف اور ماسکو دونوں نے ایک دوسرے پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بدستور جاری ہے۔
سورس اردو پوائنٹ




























