ٹرمپ کا دوٹوک اعلان: یوکرین نہ نیٹو میں شامل ہوگا، نہ کریمیا واپس لے سکے گا

0
94
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یوکرین کے لیے نہ تو نیٹو میں شمولیت کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی وہ روس کے قبضے سے کریمیا واپس حاصل کر سکے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ دونوں راستے یکسر بند ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی راہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ یہ ملاقات ریاست الاسکا میں ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مذاکرات کے بعد ہورہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ آج وائٹ ہاؤس میں ایک تاریخی دن ہے، اس سے پہلے کبھی اتنے یورپی سربراہان ایک ساتھ نہیں آئے اور ان کی میزبانی میرے لیے باعثِ فخر ہے۔

زیلنسکی اور یورپی لیڈرز کو توقع ہے کہ روس کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں صدر ٹرمپ یوکرین کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتوں کا وعدہ کریں گے۔ ایک امریکی ایلچی پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ صدر پیوٹن نیٹو کی طرز پر ایک سکیورٹی معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں تاہم اس کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے نے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ یوکرین کو کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا ہوگا۔ یورپی اتحادی اب ماسکو کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یوکرین امریکہ سے آرٹیکل 5 جیسی ضمانتیں لے لیتا ہے جو آئندہ کسی بھی روسی جارحیت کو روک سکیں تو یہ اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

خیال رہے کہ روس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ اگر یوکرین کے روسی زبان بولنے والے کئی علاقوں پر ماسکو کو مکمل کنٹرول مل جائے تو جنگ بندی ممکن ہے۔ تاہم الاسکا میں ہونے والی طویل بات چیت کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں صدور کے درمیان کس نکتے پر اتفاق ہوا۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اگلے تمام آرٹیکلز بھی اسی فارمیٹ (یعنی خبر کا عنوان + مختصر اور صاف پیراگراف) میں دوبارہ لکھوں؟

سورس اردو پوائنٹ