صحافی کیخلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کو تشہیر کے لیے پھیلانے پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے کیوں کہ اس سے ایک معزز ادارے کی تشخصیت کو نقصان پہنچا؛ درخواست گزار کا مؤقف
لاہور سینئر صحافی و تجزیہ سہیل وڑائچ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے سائبر کرائم ایجنسی کو درخواست دے دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق شہری مشکور حسین کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سہیل وڑائچ نے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور روزنامہ جنگ میں لکھا کہ عاصم منیر سے جب سیاست کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ریمارکس دیئے کہ "سیاسی مفاہمت اسی صورت میں ممکن ہے جب مخلصانہ معافی مانگی جائے” ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ "نہ تو آرمی چیف نے برسلز میں کوئی سیاسی بیان دیا اور نہ ہی انہوں نے کسی معافی کا ذکر کیا” انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد نے ذاتی تشہیر کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

اپنی درخواست میں شہری نے مؤقف اپنایا ہے کہ میں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور روزنامہ جنگ پر سہیل وڑائچ کا کالم پڑھا جو ایک جھوٹی اور من گھڑت کہانی ہے حتیٰ کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں اسے گمراہ کن قرار دیا، لہٰذا استدعا ہے کہ سہیل وڑائچ کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کو تشہیر کے لیے پھیلانے پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے کیوں کہ اس سے ایک معزز ادارے کی تشخصیت کو نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ ترجمان پاک فوج کی طرف سے صحافی سہیل وڑائچ کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق کالم پر ردعمل سامنے آیا جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل وڑائچ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عمران خان سے متعلق کالم من گھڑت قرار دیا، انہوں نے کہا کہ سہیل وڑائچ کے جس آرٹیکل کی بات ہو رہی ہے وہ برسلز کا ایونٹ تھا اور وہاں سینکڑوں لوگوں نے تصویر بنوائی، آرمی چیف کی طرف سے کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا، سہیل وڑائچ نے بھی دیگر لوگوں کی طرح فیلڈ مارشل کے ساتھ ملاقات کی، وہاں عمران خان کا ذکر ہوا نہ معافی کی بات ہوئی، سہیل وڑائچ نے ذاتی مفاد کیلئے کہانی گھڑی۔
سورس اردو پوائنٹ




























