پاکستان اور دنیا موسمیاتی بحران کے نرغے میں

0
105
pakalerts.pk

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی اب کسی مستقبل کی کہانی نہیں رہی، بلکہ آج کی زندہ حقیقت ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ زمین کو مسلسل بھٹی میں بدل رہا ہے۔ یورپ میں ہیٹ ویوز جانیں لے رہی ہیں، امریکا جنگلاتی آگ سے جھلس رہا ہے، افریقہ قحط کا شکار ہے اور ایشیا میں بارشیں تباہی برپا کر رہی ہیں۔

پاکستان بھی اس بحران کی براہ راست زد میں ہے۔ حالیہ مون سون بارشوں نے سینکڑوں جانیں لیں، ہزاروں گھر اور کھڑی فصلیں اجاڑ دیں۔ ماہرین کے مطابق زرعی شعبہ اس وقت کھربوں روپے کے نقصان کا سامنا کر رہا ہے، جس سے خوراک کی کمی اور معاشی بدحالی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

شمالی علاقہ جات میں برفانی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ خاموش مگر مہلک خطرہ ہے جو اچانک آنے والے سیلابوں کی صورت میں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں نگل سکتا ہے۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا بیشتر زرعی خطہ اور شہری علاقے موسمیاتی تباہی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کیے جائیں:

  • جدید ارلی وارننگ سسٹمز کی تنصیب
  • کلائمٹ ریزیلینٹ بیج اور جدید زرعی طریقے
  • پائیدار شہری منصوبہ بندی
  • اور سب سے بڑھ کر، عالمی برادری کی جانب سے شفاف اور بروقت کلائمٹ فنانس

یہ اقدامات صرف انتخاب نہیں بلکہ بقا کا سوال ہیں۔ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے، اور سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی تاخیر کے متحمل ہو سکتے ہیں؟