کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران 2500 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار سالانہ مالی گوشوارے کے اجرا کے موقع پر جاری کیے گئے۔
سالانہ مالی گوشوارے اور آڈیٹرز کی رپورٹ
اسٹیٹ بینک کے مطابق سالانہ مالی گوشوارے اور آڈیٹرز کی رپورٹ باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق:
اسٹیٹ بینک نے 2500 ارب روپے کا خالص منافع کمایا۔
- مکمل گوشوارے اور تفصیلات اسٹیٹ بینک کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔
- 2428 ارب روپے کا فاضل منافع براہِ راست وفاقی حکومت کو منتقل کیا گیا۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
اسٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے بھی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:
ذخائر میں 4.7 کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک کے اپنے ذخائر میں 1.81 کروڑ ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مجموعی ذخائر 14.27 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے۔
دوسری جانب، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 2.89 کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کے مجموعی ذخائر 5.34 ارب ڈالرز ہوگئے۔
معاشی اہمیت
اسٹیٹ بینک کا یہ ریکارڈ منافع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ پاکستان کی معاشی صورتحال میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسٹیٹ بینک کا فاضل منافع وفاقی حکومت کے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ ذخائر میں اضافہ زرِمبادلہ کی مارکیٹ میں استحکام کے لیے اہم ہے۔




























