بھارت کی طرف سے چھوڑا جانے والا ریلا دریائے سندھ روجھان میں داخل

0
104
pakalerts.pk
pakalerts.pk

روجھان (13 ستمبر 2025): بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا سیلابی ریلا دریائے سندھ میں روجھان کے مقام پر داخل ہو گیا، جس کے باعث دریا کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اچانک آنے والے ریلے نے روجھان کے کچے کے علاقے میں تباہی مچا دی۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی کپاس، مونگی اور دیگر فصلیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں۔ کچہ میانوالی، کچہ مندری، میراں پور، کچہ چوہان اور ڈیرہ دلدار سمیت کئی مواضعات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

سیلاب کے باعث متاثرین کے گھر اور اسکول زیرِ آب آ گئے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ نجی کشتیوں کے ذریعے بھی متاثرہ افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی علاقوں کو فوری خالی کیا جائے۔ روجھان میں متاثرین کے لیے فلڈ ریلیف کیمپس اور خیمہ بستیاں قائم کر دی گئی ہیں۔

پنجاب اور سندھ میں صورتحال

پنجاب میں تباہی مچانے والا یہ ریلا سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے گھوٹکی اور کشمور کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ نوشہروفیروز میں کشتی الٹنے کے ایک واقعے میں ڈوبنے والے 5 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق:

  • گڈو بیراج پر پانی کی آمد: 5 لاکھ 37 ہزار 220 کیوسک، اخراج: 5 لاکھ 5 ہزار 392 کیوسک
  • ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد و اخراج: 6 لاکھ 51 ہزار 572 کیوسک
  • سکھر بیراج پر پانی کی آمد: 4 لاکھ 60 ہزار 490 کیوسک، اخراج: 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے اور گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ انتہائی اونچے درجے سے کم ہو کر 78 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ ہیڈ سلیمانکی پر بہاؤ 87 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ اسلام پر 82 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔