پنجاب کی جیلوں کو جدید سکیورٹی نظام سے لیس کرنے کا بڑا قدم

0
105
pakalerts.pk
pakalerts.pk

جیل خانہ جات اور این آر ٹی سی کے درمیان معاہدے پر دستخط، 5 ارب روپے کی لاگت سے سیف جیل منصوبہ شروع

لاہور (12 ستمبر 2025) — وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبے کی جیلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب میں جیل خانہ جات اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) کے مابین معاہدے پر دستخط ہو گئے۔ معاہدے پر آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور جنرل منیجر این آر ٹی سی سید عامر جاوید نے دستخط کیے۔

منصوبے کی تفصیلات

  • پنجاب بھر کی جیلوں میں 12,071 جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
  • منصوبے پر کل لاگت 5 ارب روپے آئے گی۔
  • 615 پبلک ایڈریس سسٹم اور پینک بٹن، 328 باڈی کیم، 615 واکی ٹاکی سسٹم، 41 ایکس رے باڈی اسکینرز اور 41 انڈر وہیکل سرویلنس سسٹم لگائے جائیں گے۔
  • فیشل ریکگنیشن سسٹم، وزیٹر مینجمنٹ سسٹم، 133 سافٹ ویئرز اور 24 ویڈیو کانفرنس سسٹم بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

جدید نگرانی کا نظام

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق:

  • نصب کیے جانے والے کیمرے چہروں اور گاڑیوں کی شناخت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • قیدیوں، جیل عملے اور ملاقاتیوں کی مکمل نگرانی ممکن ہو گی۔
  • خلافِ ضابطہ حرکت پر خودکار الارم جنریٹ ہوگا۔
  • جیل کے داخلی و خارجی راستے، قیدیوں کی بیرکس، دفاتر، سکیورٹی وال، کچن، ہسپتال اور لائبریری سب سرویلنس میں آئیں گے۔

تکمیل کا شیڈول

  • منصوبے کا پہلا فیز دسمبر 2025 تک 11 سینٹرل جیلوں اور مرکزی دفاتر میں مکمل ہوگا۔
  • جون 2026 تک پنجاب کی تمام جیلوں کو اس نظام کے تحت کور کر دیا جائے گا۔
  • منصوبے کے ساتھ ساتھ 5 سالہ آپریشنز اور مینٹیننس کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔

سیف سٹیز اتھارٹی منصوبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گی، جبکہ مانیٹرنگ کے لیے تمام جیلوں، ریجنل ڈی آئی جی دفاتر، آئی جی جیل آفس اور محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے۔