مزید 4 کروڑ متوسط پاکستانی بھی غربت کا شکار ہو گئے، پاکستان میں غربت سے متعلق تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آ گئ
12 کروڑ پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور، مزید 4 کروڑ متوسط پاکستانی بھی غربت کا شکار ہو گئے، پاکستان میں غربت سے متعلق تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اور معروف ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں غربت کی شرح میں تشویش ناک اضافے کا انکشاف کیا۔
سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں پہلی مرتبہ 50 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی جائے گی، یعنی اندازہ ہے کہ 12 کروڑ پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ سینئر صحافی محمد مالک کے مطابق یہ وہ افراد ہیں جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ مزید 3 سے 4 کروڑ پاکستانی جن کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، اب وہ بھی غربت کی کیٹیگری میں آ چکے۔
دوسری جانب عالمی بینک کی سامنے آنے والی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان خطے میں غربت کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں غربت کی اوسط شرح 27.7 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح 23.9 فیصد اور بنگلا دیش میں 24.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
جبکہ پاکستان میں عالمی معیار کے مطابق غربت کی حقیقی شرح 44 فیصد کی تشویش ناک بلند سطح تک پہنچ چکی۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت اس قدر بڑھ چکی کہ 16.5 فیصد آبادی یعنی تقریباً 4 کروڑ 12 لاکھ افراد روزانہ کی بنیاد پر صرف 900 روپے سے بھی کم کماتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں صوبہ بلوچستان ملک کا سب سے غریب صوبہ ہے۔
صوبہ بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جو 42 فیصد تک پہنچ گئی تھی، خیبرپختونخوا میں یہ شرح 30 فیصد، سندھ میں 25 فیصد سے کم اور پنجاب میں 15 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل اگر فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو پاکستان کو مستقبل میں مزید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی رپورٹ "ریکلیمِنگ مومینٹم ٹوورڈز پراسپرٹی: پاکستان کی غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ” انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کی ابھرتی ہوا متوسط طبقہ آبادی، جو کل آبادی کا 42.7 فیصد ہے، مکمل معاشی تحفظ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متوسط طبقہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے جیسے کہ محفوظ نکاسیٔ آب، صاف پینے کا پانی، سستی توانائی اور رہائش۔
یہ پاکستان میں کمزور عوامی خدمات کی فراہمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے 15 سے 24 سال کی عمر کے 37 فیصد نوجوان نہ تو ملازمت کر رہے ہیں اور نہ ہی تعلیم یا تربیت میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے آبادی کا دباؤ اور مزدور منڈی کی طلب و رسد میں عدم توازن ہے۔ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے معاشی ترقی کے ماڈل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا ترقیاتی ماڈل جس نے ابتدا میں غربت کم کرنے میں مدد دی تھی، اب ناکافی ثابت ہوا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2021-22 سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا کبھی امید افزا غربت میں کمی کا سفر اب رک گیا ہے اور برسوں کی محنت سے حاصل کردہ کامیابیاں ضائع ہو رہی ہیں۔ حالیہ معاشی دھچکوں نے غربت کی شرح کو مالی سال 2023-24 میں بڑھا کر 25.3 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف گزشتہ تین برسوں میں غربت کی شرح 7 فیصد بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قومی سطح پر غربت 25.3 فیصد ہے، جو 8سال کی بلند ترین سطح ہے، لیکن بین الاقوامی غربت لائن کے مطابق یہ شرح 44.7 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2001 سے 2015 تک غربت میں اوسطاً سالانہ 3 فیصد کمی ہوئی، جو 2015-18 کے دوران کم ہو کر سالانہ صرف 1 فیصد رہ گئی۔ پھر 2022 کے سیلاب سے غربت میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا اور مزید 1.3 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
2022-23 میں توانائی کی قیمتوں میں حکومتی اضافے کے باعث مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا جس نے گھرانوں کی قوتِ خرید اور حقیقی آمدنی کو شدید متاثر کیا۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا ہے کہ تاریخی طور پر پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ غربت اور عدم مساوات میں کمی کے لیے معاون نہیں رہا۔
سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات




























