نیتن یاہو دوبارہ جنگ شروع کرنے کا بہانہ تلاش کریں گے، منیر اکرم کا خدشہ**

0
94
pakalerts
pakalerts

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے باوجود جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر دوبارہ جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران منیر اکرم نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کا بیان بالکل درست ہے، کسی ملک کو دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلئیر معاہدہ کیا تھا، مگر بعد میں امریکہ نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی، جس کے بعد اسرائیل نے خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے مختلف کارروائیاں شروع کر دیں۔

سابق پاکستانی مندوب کے مطابق اسرائیل نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھ مختلف ممالک میں بمباری کی، اور اب بھی وہ مختلف بہانوں سے دیگر ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر جنگ بندی تو قبول کی، مگر دراصل وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنا سکیں۔

ان کے بقول نیتن یاہو بظاہر امن کی بات کرتے ہیں مگر درپردہ انتہاپسند یہودیوں کی حمایت حاصل رکھنے کے لیے حالات کو کشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔

سابق پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ ایک مثبت پیشرفت ہے لیکن اصل امتحان اس پر مکمل عملدرآمد کا ہوگا۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کسی بھی وقت نیا بہانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی سیاسی پوزیشن مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔