پاک افغان مذاکرات کی آخری کوشش جاری، افغان وفد کے مؤقف میں بار بار تبدیلی مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں بڑی رکاوٹ

0
76
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

استنبول میں جاری پاک-افغان مذاکرات طالبان کے موقف میں بار بار تبدیلی کے باعث ابھی تک تعطل کا شکار ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان تیسری روز مذاکرات تقریباً 18 گھنٹے تک جاری رہے اور اب مذاکرات آخری دور میں داخل ہونے کی طرف ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کی جانب سے سرحدی کارروائیوں اور دہشت گردی کے خلاف سخت موقف کو بعض حد تک قبول کیا، جبکہ میزبانوں کی موجودگی میں بھی انہوں نے مرکزی مسئلے پر تسلیمات کی طرف اشارہ کیا۔

تاہم بات چیت بار بار متاثر ہوئی کیونکہ کابل سے بھیجی جانے والی ہدایات کے باعث طالبان وفد کا موقف بارہا بدلتا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل سے ملنے والی غیر منطقی اور نامناسب ہدایات مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کی بڑی وجہ ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان اور میزبان ملک اب بھی سنجیدگی سے پیچیدہ امور کے حل کے لیے کوشاں ہیں اور ایک آخری کوشش جارِی ہے کہ اس معاملے کو منطق، ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے عبوری افغان حکومت سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردانہ کاررویاں بند کی جائیں۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کر چکے ہیں کہ اگر معاملات مذاکرات سے حل نہ ہوئے تو پاکستان کے لیے کھلے طور پر کارروائی کا اختیار موجود ہے۔