محمود اچکزئی کے پاس مذاکرات کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اگر مذاکرات ہوتے ہیں اور بانی کو جب بھی لگا کہ بیانیہ خراب ہورہا ہے تو وہ محمود اچکزئی سے لاتعلق ہوجائیں گے، وزیرمملکت حذیفہ رحمان
وزیرمملکت، معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کشمکش میں ہیں کہ مذاکرات کروں تومقبولیت ختم ہوتی ہے اور نہیں کرتا تو پارٹی ختم ہوتی ہے، محمود اچکزئی کے پاس مذاکرات کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے ہی کہا تھا کہ محمود اچکزئی کے پاس مذاکرات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا جب دل چاہے گا محمود اچکزئی سے لاتعلق ہوجائیں گے، پی ٹی آئی کے تمام معاملات کا اختیاربانی پی ٹی آئی کے پاس ہے، اسی وجہ سے ہم نے بے فائدہ قسم کے مذاکرات میں نہیں گئے کہ دو ماہ بات چیت کرتے رہتے اور آخر میں بانی پی ٹی آئی کو اگر لگتا کہ بیانیہ خراب ہورہا ہے، تو وہ کہہ دیں گے کہ محمود اچکزئی میری جماعت کا نہیں ہے، میں نے مذاکرات کی کوئی بات نہیں کی۔
پی ٹی آئی کے رہنماء جب بھی بانی سے جیل میں ملے تو انہوں نے کہا کہ مذاکرات نہیں کرنے، ان کو اس بات کا یقین ہے کہ مذاکرات سیاسی لوگوں سے کرنے ہیں، اگر مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ گئے، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں پر معذرت کرلی اور سیاسی لوگوں کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا تو ایبسولوٹلی ناٹ اور چور چور اور میرجعفر میرصادق کا بیانیہ سب ختم ہوجاتا ہے، بانی پی ٹی آئی خود کنفیوز ہیں کہ مذاکرات کرتا ہوں تو مقبولیت ختم ہوتی ہے اور نہیں کرتا تو پارٹی ختم ہوتی ہے۔
آگے کنواں پیچھے کھائی ہے، بانی پی ٹی آئی اب مذاکرات کیلئے کیوں تیار ہوئے؟ کیونکہ جب ان کو سزا ہوئی تو وہ صدمے میں چلے گئے، اور وکلاء کو کہا کہ اگر مذاکرات پر بات ہوسکتی ہے تو بات چلائیں۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ عمران خان پانی سزا پوری کریں، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں رِہائی سے متعلق بات نہیں ہوگی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنی سزا مکمل طور پر بھگتیں گے اور انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا۔
اگر پی ٹی آئی سے مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی زیر بحث نہیں آئے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملے پر اب تک پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی گئی، اگر واقعی سنجیدہ مذاکرات کی بات ہوتی تو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے بیان دیتے۔ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں بھی اس جماعت نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔




























