عمران خان نظام کیخلاف چٹان کی طرح کھڑا ہے، نوازشریف نہیں جو ڈیل کرکے بھاگ جائے

0
28
pakalerts.pk
pakalerts.pk

لیڈر اور ڈیلر میں یہی فرق ہوتا ہے، نوازشریف کو شہباز شریف نے خود مائنس کردیا، جبکہ عمران خان کبھی مائنس نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ ہی پی ٹی آئی ہیں۔ معاون خصوصی شفیع جان

معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان نے کہا ہے کہ عمران خان نظام کیخلاف چٹان کی طرح کھڑا ہے، نوا شریف نہیں جو ڈیل کرکے لندن اور سعودی عرب بھاگ جائے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب زیادہ مقبول لیڈر عمران خان ہے، عمران خان کی مقبولیت کا خوف ان کو کھائے جارہا ہے، عمران خان اپنے فیصلوں کی وجہ سے دن بدن مقبول ہوتے جارہے ہیں، جس طرح عمران خان اس نظام کے خلاف چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور جیل کاٹ رہے ہیں ، یہ نوازشریف نہیں جو ڈیل کرکے لندن اور سعودی عرب بھاگ جائے، نوازشریف نہیں جو مائنس ہوجائے، عمران خان کوئی نواز شریف نہیں جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگائے اور لیٹ جائے، لیڈر اور ڈیلر میں یہ فرق ہوتا ہے، نواز شریف کو شہباز شریف اور جماعت نے خود مائنس کردیا ہے۔عمران خان کبھی مائنس نہیں ہوسکتے کیونکہ عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے آن دی فلور کہا ہے کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں، جب بھی تحریک زور پکڑتی ہے تو حکومت مذاکرات کا سوشہ چھوڑ دیتی ہے، ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کے کچھ بنیادی شرائط ہیں اگر حکومت ان پر بات کرنا چاہتی ہے تو محمود اچکزئی کے پاس عمران خان کا مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ ہے۔اس موقع پر پروگرام میں وزیرمملکت، معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے ہی کہا تھا کہ محمود اچکزئی کے پاس مذاکرات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا جب دل چاہے گا محمود اچکزئی سے لاتعلق ہوجائیں گے، پی ٹی آئی کے تمام معاملات کا اختیاربانی پی ٹی آئی کے پاس ہے، اسی وجہ سے ہم نے بے فائدہ قسم کے مذاکرات میں نہیں گئے کہ دو ماہ بات چیت کرتے رہتے اور آخر میں بانی پی ٹی آئی کو اگر لگتا کہ بیانیہ خراب ہورہا ہے، تو وہ کہہ دیں گے کہ محمود اچکزئی میری جماعت کا نہیں ہے، میں نے مذاکرات کی کوئی بات نہیں کی۔پی ٹی آئی کے رہنماء جب بھی بانی سے جیل میں ملے تو انہوں نے کہا کہ مذاکرات نہیں کرنے، ان کو اس بات کا یقین ہے کہ مذاکرات سیاسی لوگوں سے کرنے ہیں، اگر مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ گئے، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں پر معذرت کرلی اور سیاسی لوگوں کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا تو ایبسولوٹلی ناٹ اور چور چور اور میرجعفر میرصادق کا بیانیہ سب ختم ہوجاتا ہے، بانی پی ٹی آئی خود کنفیوز ہیں کہ مذاکرات کرتا ہوں تو مقبولیت ختم ہوتی ہے اور نہیں کرتا تو پارٹی ختم ہوتی ہے۔ آگے کنواں پیچھے کھائی ہے، بانی پی ٹی آئی اب مذاکرات کیلئے کیوں تیار ہوئے؟ کیونکہ جب ان کو سزا ہوئی تو وہ صدمے میں چلے گئے، اور وکلاء کو کہا کہ اگر مذاکرات پر بات ہوسکتی ہے تو بات چلائیں۔