اڈیالہ جیل کے باہر شعبہ بازی کرنے والوں کو قانون کی عملداری بتائیں گے، طلال چوہدری

0
55
pakalerts.pk
pakalerts.pk

فوج سیاست میں مداخلت نہیں کررہی، آپ اپنی سیاست چمکانے کیلئے بار بار فوج اوراس کے سربراہ کو سیاست میں لاتے ہیں، اداروں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان کھینچ لی جائے گی اب اڈیالہ کے باہر آئیں؛ وزیرمملکت کا بیان

 وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے پشاور میں جلسے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی ساری باتیں سچ ثابت کر دیں، اداروں کے خلاف استعمال ہونے والی زبان کھینچ لی جائے گی اب اڈیالہ کے باہر آئیں تو اڈیالہ جیل کے باہر شعبہ بازی کرنے والوں کو قانون کی عملداری بتائیں گے۔اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کل پشاور میں پی ٹی آئی نے جلسہ کیا، لوگ سمجھ رہے تھے پی ٹی آئی اپنی 13سالہ کارکردگی کے بارے بات کرے گی، جلسے میں گالم گلوچ اور تنقید کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا، کل پی ٹی آئی کے جلسے میں ثابت ہوگیا ڈی جی آئی ایس پی آر کی ساری باتیں سچ اور حقیقت ہیں، فوج سیاست میں مداخلت نہیں کررہی، آپ اپنی سیاست چمکانے کیلئے بار بار فوج اوراس کے سربراہ کو سیاست میں لاتے ہیں، اب انتشار برداشت نہیں کیا جائے گا، اداروں کا تحفظ حکومت پر فرض ہے۔وزیرمملکت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے ادارے کو جواب دینے پر خود مجبور کیا، فوج اور اس کے سربراہ نے بہت لمبے عرصے صبر اوردرگزر سے کام لیا، پی ٹی آئی نے کبھی اسرائیل، بھارت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردوں کیلئے نرم رویہ رکھا، جب ساری تنقید فوج اور اس کے سربراہ پر ہو تو جواب تو بنتا ہے، حکومت نے کئی بار پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں بات چیت کی دعوت دی، پی ٹی آئی کو بات چیت کی دعوت دینے پر آج ہمیں خودشرمندگی ہورہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کی بانی کے سامنے بنی گالہ کے شیرو سے زیادہ حیثیت نہیں، بانی کے اپنے بچے آج بھی گولڈ سمتھ کی گود میں پل رہے ہیں، کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں پہنچنے کے بعد خود کو عقل کل سمجھنے والا ذہنی مریض ہی ہوسکتا ہے، جو ہری پور میں الیکشن نہیں جیت سکے وہ لاہور یا باقی جگہ الیکشن کیا جیتیں گے، ضمنی الیکشن ہارنے پر تنقید آپ ادارے اوراس کے سربراہ پر کرتے ہیں، بات ناقابل برداشت حد تک چلی گئی، اب منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔طلال چوہدری کہتے ہیں کہ جو زبان اداروں اوران کے سربراہوں کے خلاف استعمال ہوگی اس کو کھینچ لیا جائے گا، اب یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ملاقات کے بعد باہر آکر دشمن کی زبان بولیں، مذاکرات کی دعوت نہیں اب بدزبانی کرنے والے کی زبان کھینچ لی جائے گی، اب آکر کریں اڈیالہ کے باہر تماشہ اور سیاسی شعبدہ بازی کریں تو بتایا جائے گا کہ کیسے قانون کی عملداری کی جاتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ بدامنی کریں، امن و امان کا مسئلہ پیدا کریں، اڈیالہ میں اور بھی بہت سارے قیدی ہیں ان کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔