عمران خان کو وکیل تک رسائی نہ دینا ان کے توشہ خانہ ٹوکیس کے حق اپیل پر دانستہ رکاوٹ ڈالنا ہے

0
36
pakalerts.pk
pakalerts.pk

عمران خان اور اہلیہ وکیل تک رسائی نہیں دی جارہی، مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر عمران خان کو اپنے وکیل تک مکمل اور بلارکاوٹ رسائی دی جائے۔ ترجمان پی ٹی آئی کا ردعمل

ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کو وکیل تک رسائی نہ دینا ان کے توشہ خانہ ٹوکیس کے حق اپیل پر دانستہ رکاوٹ ڈالنا ہے۔ ایکس پر اعلامیہ شعبہ اطلاعات پی ٹی آئی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو انکے وکیل تک رسائی دینے سے دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ وہ توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی ناحق سزا کے خلاف اپیل کیلئے وکالت نامے پر دستخط نہ کر سکیں۔یہ کھلا سیاسی انتقام اور انصاف کے راستے میں جان بوجھ کر کھڑی کی گئی رکاوٹ ہے۔ جیل حکام قیدی اور اس کے وکیل کے درمیان قانونی عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کے مجاز نہیں۔

قید کے دوران اپیل کے حق سے محروم کرنا پنجاب جیل قواعد اور قیدی کے بنیادی قانونی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ یہ تمام اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A، آرٹیکل 4، آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 25 کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر عمران خان کو اپنے وکیل تک مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے، وکالت نامے پر دستخط کی اجازت دی جائے اور اپیل کے آئینی و قانونی حق میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ دوسری جانب سینئر قانون دان بابر اعوان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف مظالم جاری رہے تو انکے بیٹے واپس ضرور آئیں گے اور بیٹوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزا بھی اپلائی کر دیا ہے۔ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ بیٹوں سے خوف یہ ہے کہ اگر بات کروائی گئی تو وہ واپس آ جائیں گے اور میں آپ کے خوف کو تقویت دیتا ہوں، اگر یہ مظالم جاری رہے تو وہ واپس ضرور آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیٹے سیاست میں نہیں ہیں اور قانون یہ کہتا ہے کہ بیٹوں سے ہفتے میں کم از کم ایک دفعہ بات کروائی جائے، مگر مہینوں سے کوئی بات نہیں کروائی گئی۔بابر اعوان نے کہا دو وزراء نے بیان دیا ہے کہ 8 فروری تک بانی پی ٹی آئی کو کسی سے ملنے نہیں دیا جائے گا، حالانکہ ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں۔ قانون کے مطابق یہ دو جرائم میں آتا ہے، ایک یہ کہ اختیار نہیں اور دوسرا یہ کہ یہ دستور کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل کو چلانے اور ریگولیٹ کرنے کا اختیار صرف دو لوگوں کے پاس ہوتا ہے، ایک وہ عدالت جو قیدی کو بھیجتی ہے اور جس کی کسٹڈی ہوتی ہے اور دوسرا جیل کا انچارج۔ ان کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار نہیں۔