مسئلہ ہے کہ احتجاجی سیاست کرے گا کون؟پی ٹی آئی کی سیاسی قوت انتہائی کمزور ہوچکی ہے

0
86
pakalerts.pk
pakalerts.pk

نئے وزیراعلیٰ کے آنے سے چیزیں تصادم کیطرف بڑھ رہی ہیں، پی ٹی آئی نے ساری توقعات نئے وزیراعلیٰ پر لگا لی، سہیل آفریدی کا اصل ہدف حکومت چلانا ہونا چاہیئے۔ رکن اسمبلی شیر افضل مروت

 رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مسئلہ ہے کہ احتجاجی سیاست کرے گا کون؟ پی ٹی آئی کی سیاسی قوت انتہائی کمزور ہوچکی ہے،نئے وزیراعلیٰ کے آنے سے چیزیں تصادم کیطرف بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بن گئے ہیں لیکن حکومت اور معاملات کو چلانا اصل ٹارگٹ ہے، علی امین کو ہٹایا گیا لیکن پی ٹی آئی کو ادراک نہیں ہوسکا کہ علی امین بڑی مشکل سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔

ایک توازن قائم کئے رکھا تاکہ حکومت چل سکے۔ 

نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آنے چیزیں تصادم کیطرف بڑھ رہی ہیں، اس وقت کوئی اصلاح، مصالحت کی بات نہیں کی جارہی۔

پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے بیانات مختلف ہیں، انقلاب لانے کیلئے سب کا ایک پوائنٹ پر متحد ہونا ضروری ہے۔ لیڈرشپ کو کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی بقاء احتجاجی سیاست کے کوئی دوسری شکل میں نہیں ہے۔

لیکن مسئلہ ہے کہ احتجاجی سیاست کرے گا کون ؟ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کی قوت انتہائی کمزور ہوچکی ہے۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے بھی کہا کہ ہم ان کو اٹک پل کراس نہیں کرنے دیں گے۔ 

پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے میں تقسیم ہے، ساری توقعات نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے باندھ لی ہیں، نئے وزیراعلیٰ آگئے ان کا اصل ہدف حکومت چلانا اور کامیاب بنانا ہونا چاہیئے ۔اگر سہیل آفریدی اڈیالہ میں عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ، تو کرنے دی جائے۔ 

مسئلہ یہ ہے کہ احتجاجی سیاست کی قیادت کون کرے گا؟جس طرح بیانات آرہے ہیں اب نومبر بھی سوچ رہا ہوگا کہ آؤں یا نہ آؤں؟