نیو یارک (11 ستمبر 2025): پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ میانمار میں جاری خانہ جنگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جہاں ہزاروں لوگ روزانہ موت کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
انسانی بحران اور امدادی مشکلات
گرینڈی نے اپنے سہ روزہ دورۂ میانمار کے بعد بتایا کہ خانہ جنگی اور قدرتی آفات سے متاثرہ بیشتر علاقوں تک امدادی رسائی ممکن نہیں، جس کے باعث ہزاروں ضرورت مند لوگ انسانی امداد سے محروم ہیں۔ فضائی بمباری، جبری بھرتی، املاک کی تباہی اور غربت نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کو تحفظ، باوقار زندگی اور اپنے گھروں کو واپسی کا حق ملنا چاہیے۔ تاہم مارچ 2025 میں آنے والے شدید زلزلے اور حالیہ سیلاب نے خوراک و دیگر بنیادی ضروریات کی کمی کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہیں۔
اقلیتوں کی سنگین صورتحال
شمالی ریاست راخائن میں روہنگیا آبادی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ سال ڈیڑھ لاکھ افراد ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے، جبکہ 2017 میں بھی 7.5 لاکھ روہنگیا وہاں پناہ لے چکے ہیں۔ گرینڈی نے کہا کہ اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
امدادی وسائل کی شدید قلت
اقوام متحدہ نے رواں سال میانمار کے لیے 88.3 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی تھی، لیکن تاحال صرف 22 فیصد فنڈز ہی موصول ہو سکے ہیں۔ اس قلت کے باعث امدادی سرگرمیوں میں تاخیر اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔\
عالمی برادری سے اپیل
گرینڈی نے اعلان کیا کہ وہ 30 ستمبر کو نیویارک میں ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس میں روہنگیا اور دیگر اقلیتی برادریوں کی صورتحال پر بات کریں گے۔ انہوں نے میانمار تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بحران کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔




























