لائسنس یافتہ اسلحے سے متعلق پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ

0
79
pakalerts
pakalerts

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں لائسنس یافتہ اور غیر قانونی اسلحے کی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے عوام کو غیرقانونی اسلحہ 15 دن کے اندر جمع کرانے کی مہلت دی جائے گی۔

اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ صوبے میں لائسنس یافتہ اسلحے کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی، جس میں اسلحے کے مالک اور لائسنس جاری کرنے والے ادارے دونوں کی تصدیق ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جاری کیے گئے تمام لائسنسوں کی مکمل چھان بین ہوگی تاکہ کسی بھی غلط استعمال یا جعلسازی کو روکا جا سکے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اب صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈز ہی عوامی مقامات پر اسلحہ رکھنے کے مجاز ہوں گے۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں ڈرون پولیسنگ سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے جرائم پیشہ سرگرمیوں کی جدید انداز میں نگرانی کی جائے گی۔

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے کی مہم جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک قتل کے واقعات میں 49 فیصد اور گاڑیاں چھیننے کے کیسز میں 62 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سہیل ظفر چٹھہ نے مزید کہا کہ غیرقانونی اسلحے کے خاتمے سے جرائم میں 75 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کروائیں گے، ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ایڈیشنل آئی جی کے مطابق سی سی ڈی نے صوبے میں جرائم کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کے ذریعے صوبے کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔