دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

0
111
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

لاہور (4 ستمبر 2025): بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاؤں میں مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

سیلابی صورتحال

ہیڈ سدھنائی کو بچانے کی کوشش میں مائی صفوراں بند میں شگاف پڑ گیا، جس سے قریبی دیہات خطرے میں ہیں۔
دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث لودھراں اور بہاولپور کے تین بند ٹوٹ گئے، پانی تیزی سے آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔

دریاؤں میں پانی کا بہاؤ (کیوسک میں)

دریائے راوی:

جسڑ: 82 ہزار
راوی سائفن: 80 ہزار
شاہدرہ: 79 ہزار
ہیڈ بلوکی: 1 لاکھ 14 ہزار
ہیڈ سدھنائی: 1 لاکھ 52 ہزار

دریائے ستلج:

گنڈا سنگھ والا: 3 لاکھ 19 ہزار
ہیڈ سلیمانکی: 1 لاکھ 32 ہزار
ہیڈ اسلام: 95 ہزار
ہیڈ پنجند: 1 لاکھ 60 ہزار

ریسکیو و ریلیف آپریشن

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔

تھرمل امیجنگ اور ڈرون کیمروں کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
ترجمان پولیس کے مطابق اب تک 3 لاکھ سے زائد افراد اور 4 لاکھ مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

پولیس ہائی الرٹ

آئی جی پنجاب کے مطابق شاہدرہ، ملتان، قصور، وہاڑی، لودھراں اور میلسی میں پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ریسکیو و بحالی کے کاموں میں شریک ہیں۔
سیکیورٹی، سرویلنس اور پٹرولنگ کو مزید بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔