کراچی: معروف کامیڈین اور ٹی وی میزبان تابش ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں انہیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکنان نے اغوا کرلیا تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام ہنسنا منع ہے کے دوران تابش ہاشمی نے بتایا کہ وہ کبھی ایم کیو ایم کے رکن نہیں رہے، لیکن ایک موقع پر ان کے کارکنان کے نرغے میں ضرور آگئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل 2008 میں ایم کیو ایم کے کارکنان نے انہیں اغوا کرلیا تھا اور کئی گھنٹوں تک ایک چھوٹی سی کار میں قید رکھ کر ڈراتے اور دھمکاتے رہے۔ اس دوران ان کے سر اور کمر پر پستول تان کر انہیں جان سے مارنے کی باتیں کی گئیں۔ تاہم، خدا کے کرم سے انہیں زندہ چھوڑ دیا گیا۔
تابش ہاشمی نے کہا کہ اس واقعے کی تفصیل وہ پہلے ہی ایک یوٹیوب شو میں بیان کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق واقعے سے قبل انہیں فون پر یونیورسٹی کے سالانہ فنکشن میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، لیکن بعد میں بلایا گیا اور ہدایت کی گئی کہ وہ اسٹیج پر نہ جائیں۔
کامیڈین نے مزید کہا کہ ان کے شوز کے لیے کئی ہفتے پہلے سے تیاری کی جاتی ہے، مگر اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں سالانہ تقریب میں ایوارڈ ملنا تھا اس لیے جب ان کا نام پکارا گیا تو اسٹیج پر جانے لگے، تب ہی انہیں یونیورسٹی سے اٹھایا گیا اور چند گھنٹوں تک یرغمال بناکر ڈرانے، دھمکانے کے بعد چھوڑا گیا۔
تابش ہاشمی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں اٹھانے سے قبل ان ہی لڑکوں نے ان کے والد کو بھی اٹھایا تھا اور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا جس پر انہیں کافی عرصے تک سخت غصہ رہا اور سوچتے رہے کہ وہ ہتھیار خرید کر لڑکوں کو قتل کردیں۔
ایک سوال کے جواب میں کامیڈین نے بتایا کہ اب وہ ان لڑکوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں، اب اگر وہ ان سے بدلہ لیتے ہیں تو پھر انہیں واپس ان کی نچلی سطح پر جانا پڑے گا، اس لیے اب انہوں نے انہیں معاف کردیا۔




























