اقوام متحدہ کی پاک بھارت جنگ 2025 پر رپورٹ جاری، پاکستانی موقف کی تصدیق

0
33
pakalerts
pakalerts

اسلام آباد (19 دسمبر 2025):
اقوام متحدہ نے پاک بھارت جنگ 2025 سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کے مؤقف اور بیانیے کی واضح تائید کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور فوجی تصادم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے پاکستان کی حدود میں طاقت کا استعمال کیا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسی روز پاکستان نے بھارتی کارروائی کی شدید مذمت کی اور سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھارتی اصطلاح ’’ہیلڈ اِن ابینس‘‘ کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے پانی، خوراک، صحت، روزگار، ماحول اور ترقی جیسے بنیادی انسانی حقوق کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ’’بنیادی حالات میں تبدیلی‘‘ کی دلیل کے لیے آبادی میں اضافہ یا توانائی کی ضروریات جیسے عوامل کافی نہیں ہوتے۔

رپورٹ میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سرحد پار پانی کے حق میں مداخلت سے گریز لازم ہے اور پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید کہا گیا ہے کہ کاؤنٹر میژرز کے نفاذ کے لیے پیشگی نوٹس، مذاکرات کی پیشکش اور قانونی طریقہ کار کی تکمیل ضروری ہوتی ہے، جبکہ انڈس واٹر کمیشن کے سالانہ اجلاس 2022 کے بعد منعقد نہیں ہو سکے۔ ڈیٹا کے تبادلے میں رکاوٹ اور تنازعات کے حل کے طے شدہ طریقہ کار سے انحراف معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ پانی روکنے جیسے اقدامات کا براہِ راست اثر عام پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق پر پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کاؤنٹر میژرز انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں سے استثنیٰ نہیں دیتے اور یہ اقدامات عارضی اور قابلِ واپسی ہوتے ہیں، مستقل معطلی یا خاتمے کا جواز نہیں بن سکتے۔ تنازعات کا حل معاہدے میں درج تصفیہ کے طریقہ کار کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔