بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایتھنول ملا ہوا ایندھن (E20) متعارف کرایا ہے، جس نے دنیا کی تیسری سب سے بڑی آٹو مارکیٹ میں پریشانی اور الجھن پیدا کر دی ہے۔
یہاں ہم E20 کے بارے میں اہم حقائق اور اس کے اثرات پر نظر ڈالتے ہیں:
E20 کیا ہے اور اسے کیسے متعارف کرایا گیا؟
- E20 پٹرول ہے جس میں 20 فیصد ایتھنول شامل کیا جاتا ہے۔
- ایتھنول زیادہ تر گنے اور اناج جیسے مکئی اور چاول سے تیار کیا جاتا ہے۔
- یہ اپریل 2023 میں چند فیول پمپوں پر شروع کیا گیا اور اپریل 2025 سے پورے بھارت میں نافذ ہو چکا ہے۔
- اس نے پہلے استعمال ہونے والے E10 فیول (10% ایتھنول والا) کی جگہ لے لی ہے، جو زیادہ تر کاروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اب پرانے فیول جیسے E10 اور E5 تقریباً دستیاب نہیں، جس سے صارفین کے پاس صرف E20 ہی بچا ہے۔
حکومت کا مؤقف: اس کے فوائد
- بھارت کا کہنا ہے کہ E20 سے تیل کی درآمدات کم ہوں گی، جس سے اس سال تقریباً 5 ارب ڈالر زرمبادلہ بچایا جائے گا۔
- کسانوں کی آمدنی میں بھی تقریباً 4.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
- یہ فیول روایتی پٹرول کے مقابلے میں کم آلودگی پھیلانے والا سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی صارفین کیوں ناراض ہیں؟
- برازیل اور امریکہ جیسے بڑے ممالک بھی ایتھنول ملا فیول استعمال کرتے ہیں، مگر وہاں پمپوں پر مختلف فیول آپشنز موجود ہیں۔
- بھارت میں 90 ہزار فیول پمپوں پر صرف E20 مل رہا ہے، جس سے صارفین کو کوئی متبادل نہیں۔
- پرانی کاروں اور موٹر سائیکلوں کے مالکان پریشان ہیں کہ E20 ان کی گاڑیوں کی کارکردگی کو متاثر کرے گا۔
- کئی کار مینولز میں صرف E5 یا E10 کا ذکر ہے، جس سے کنفیوژن بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ ایک انڈسٹری گروپ نے کہا ہے کہ وارنٹی اور انشورنس کلیمز برقرار رہیں گے، لیکن یہ بات براہِ راست آٹو کمپنیوں نے نہیں کہی۔
حکومت اور آٹو انڈسٹری کا ردعمل
- حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کے خدشات بے بنیاد ہیں اور E20 ہی مستقبل کا واحد راستہ ہے۔
- پرانی گاڑیوں میں صرف چند ربڑ پارٹس اور گسکیٹس بدلنے کی ضرورت ہوگی، جسے حکومت "آسان عمل” قرار دیتی ہے۔
- آٹو انڈسٹری نے حالیہ دنوں میں حکومت کی تائید کی ہے۔
لیب ٹیسٹ کے مطابق:
- E20 کے استعمال سے فیول ایفیشنسی میں 2-4 فیصد کمی آتی ہے۔
- پرانی گاڑیوں میں یہ کمی زیادہ ہو سکتی ہے۔
- تاہم، اسے ایک "محفوظ ایندھن” کہا جا رہا ہے۔
یہ مؤقف انڈسٹری کے پرانے موقف کے بالکل برعکس ہے۔
- 2020 میں "سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز” نے کہا تھا کہ حکومت کو E10 کے ساتھ ساتھ E20 بھی دینا چاہیے تاکہ گاڑیاں محفوظ طریقے سے چل سکیں، کیونکہ پرانی گاڑیوں میں پرزے بدلنا ایک "بڑا کام” ہے۔
E20 سے فائدہ کس کو ہوگا؟
- چینی کی ملیں اور ڈسٹلریز جیسے:
- بجاج ہندستان شوگر
- بلرامپور چینی ملز
- شری رینوکا شوگرز
کو چینی کی بڑھتی مانگ سے فائدہ ہوگا۔ - ایتھنول پروڈیوسرز جیسے:
- پرا ج انڈسٹریز
- سیان ایگرو
- سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں جیسے:
- انڈین آئل کارپوریشن
- بھارت پٹرولیم کارپوریشن
- ہندستان پٹرولیم کارپوریشن
انہیں بھی فائدہ ہوگا کیونکہ بھارت کو کم کچا تیل درآمد کرنا پڑے گا۔




























