زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا

0
98
pakalerts.pk
pakalerts.pk

زیارت (22 ستمبر 2025) — بلوچستان کے ضلع زیارت میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) زیارت محمد افضل اور ان کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ دونوں کی لاشیں اتوار کے روز برآمد ہوئیں۔

لیویز حکام کے مطابق اے سی محمد افضل اور ان کے بیٹے کو 10 اگست کو زیارت کے زِزری علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ کچھ روز قبل اغوا کاروں کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی، جس میں دونوں نے اپنی رہائی کی اپیل کرتے ہوئے مطالبات ماننے کی درخواست کی تھی۔

ڈپٹی کمشنر زیارت زکاء اللہ نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری یا نشاندہی پر 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "بزدلانہ اور غیر انسانی اقدام” قرار دیا اور کہا کہ ملزمان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا کر مجرموں کا سراغ لگائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی، اے سی افضل اور ان کے بیٹے کو شہید قرار دیا اور کہا کہ مرحوم ایک محنتی اور فرض شناس افسر تھے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ اس سفاکانہ واردات کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔