پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئین اور عدالتی نظام پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں جاری معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن آئین کی بالادستی کے لیے ہر کسی کو اس کی پیروی کرنی ہوگی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت بنانا ضروری ہے، ورنہ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو آئین کو نہیں مانتا، وہ سیاست اور وکالت چھوڑ دے۔
انہوں نے آئین کی تشکیل اور عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان نے آئین بنایا لیکن حکمرانی کسی اور کی رہی۔ بلاول بھٹو نے فلور کراسنگ کو روکنے کے لیے آرٹیکل 63 اے کے نفاذ کی حمایت کی اور کہا کہ نظام انصاف میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سابقہ آمریتوں اور اپنی جماعت کے کارکنان پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کے کارکنان کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے 2006 میں "میثاق جمہوریت” پر دستخط کرکے 1973 کے آئین کو بحال کیا۔
بلاول بھٹو نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران پر الزام عائد کیا کہ وہ عدلیہ کو پارلیمنٹ پر حملہ آور بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ماں کی طرح نرم اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ باپ کی طرح سخت۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلوں اور آئینی ترامیم کو پارلیمنٹ اور عوام کی نمائندگی کا احترام کرتے ہوئے نافذ کیا جانا چاہیے، اور اداروں کو سوشل میڈیا کے بجائے عوامی امنگوں کے مطابق چلنا چاہیے۔




























