اکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ سے اراکین کی گرفتاری کے معاملے میں تحقیقات مکمل ہونے تک ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ جلسہ ساڑھے آٹھ بجے ختم ہو اور دہشت گردی کا پرچہ درج کر لیا جائے، جیسے وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ یہ دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار ہے، لگتا ہے کہ یہ حکومت ایک جلسے کی مار ہے۔ بعد میں نقاب پوش آئے، ہر دروازہ کھولا گیا، چابیاں کس کے پاس تھیں؟ لائٹیں کس نے بند کیں؟۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ معصوم افراد کو معطل نہ کریں، بلکہ تحقیقات کی جائیں، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں لیکن جبری گمشدگیاں نہ ہوں۔ 10 ستمبر کا واقعہ ایوان کے لئے یوم سیاہ ہے، جب تک سانحہ 10 ستمبر کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتی، ہم ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ جب تک سانحہ 10 ستمبر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، ہمارے دس ممبران بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے اور نہ ہی کمیٹیوں میں شرکت کریں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ آپ نے ہماری خواتین پر ایف آئی آرز درج کی ہیں، یہاں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن کی خواتین ایم این ایز موجود ہیں، وفاقی وزیر بھی بیٹھے ہیں۔ اگر ہم خیبرپختونخوا میں آپ کے وزراء اور ارکان اسمبلی کے خلاف ایف آئی آرز درج کریں تو آپ کیا کریں گے؟ کیا اس سے ملک چل سکے گا؟ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ مذاکرات ہونا ضروری ہیں، راستہ نکالا جانا چاہئے، ہم ملک کے مفاد میں مذاکرات کی بات کرتے ہیں، ہماری اس بات کو کمزوری نہ سمجھیں۔




























