اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جہاں پی ٹی اے کو دو ہفتوں کے اندر اندر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مسائل حل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں سینیٹرز نے انٹرنیٹ سروس کے خراب ہونے سے ہونے والے بھاری مالی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔
سینیٹر ہمایوں مہمند نے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی سستی نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے تقریباً 500 ملین روپے کا نقصان ہو چکا ہے، اور سوشل میڈیا پر ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ کی مشکلات کی وجہ سے کئی ای کامرس فورمز پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
پی ٹی اے حکام نے اس دوران حیران کن طور پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انٹرنیٹ سروس سے متعلق کوئی شکایات نہیں ہیں۔ اس پر سینیٹ کمیٹی کے اراکین نے پی ٹی اے کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔
اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے انٹرنیٹ سروس کی خرابی کا الزام موبائل آپریٹرز پر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نیٹ ورکس میں ہے، وائی فائی میں نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ موبائل آپریٹرز سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں اور دو ہفتوں میں تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کی خرابی کے مسائل پر بھی اجلاس میں بحث کی گئی۔ پی ٹی اے کے ڈی جی انفورسمنٹ نے بلوچستان میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو نیٹ ورک کی خرابی کا سبب بتایا۔
کمیٹی کی چیئرپرسن پلوشہ خان نے اگلے اجلاس میں پاکستان کے نیٹ ورک کوالٹی سروے کی تفصیلات طلب کی ہیں، اور کشمور کے مسائل کے حوالے سے دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ فائر وال سے متعلق ایجنڈا بھی آج کے اجلاس میں ملتوی کر دیا گیا۔
یہ صورتحال ملک میں ڈیجیٹل ترقی کے حوالے سے تشویش ناک ہے، اور پی ٹی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا یہ مسائل بروقت حل ہو پائیں گے یا نہیں۔




























