این اے 171 کے ضمنی الیکشن میں ابتدائی غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق، پیپلز پارٹی کے امیدوار کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنز سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کی آمد جاری ہے۔ یہ نشست تحریک انصاف کے ایم این اے کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ رحیم یار خان کے حلقہ این اے 171 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔
ضمنی انتخابات کی وجہ سے ضلع رحیم یار خان میں آج عام تعطیل ہے اور دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے۔ سیکیورٹی کے لیے 2700 پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ حلقہ این اے 171 میں 5 لاکھ 26 ہزار ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا، اور یہاں کل 301 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔
حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 88 ہزار 113 ہے، جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 38 ہزار 860 ہے۔ حلقے میں مردوں اور خواتین کے لیے 88، 88 جبکہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز 125 ہیں۔ مردوں کے لیے 510 اور خواتین کے لیے 391 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ این اے 171 کی پولنگ کے لیے 301 پرائیذائیڈنگ آفسیرز، 15 ریزرو پرائیذائیڈنگ آفسیرز، 946 اسسٹنٹ پرائیذائیڈنگ آفیسرز، 946 پولنگ آفیسرز اور 301 نائب قاصد تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ریٹرنگ آفیسر کی ذمہ داری اسسٹنٹ کمشنر رحیم یارخان وقاص ظفر نے ادا کی۔
انتخابی حلقے کی سیکیورٹی 4 سیکٹرز اور 23 سب سیکٹرز میں تقسیم کی گئی ہے۔ ضمنی الیکشن کے دوران 2700 پولیس آفیسرز اور اہلکار تعینات ہیں، اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ حلقے کے 62 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، اور ایلیٹ فورس، کیو آر ایف کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے 7 امیدوار ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، اور پیپلز پارٹی کے مخدوم طاہر رشید الدین اور پی ٹی آئی کے حسان مصطفیٰ ایڈووکیٹ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سابق ایم این اے ممتاز مصطفیٰ ایڈووکیٹ کی وفات کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔




























