حکمران غیرت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے تو جو بنگلادیش میں ہوا وہی انکا مقدر ہوگ

0
130
Pakalerts.pk

زرداری اور شہباز شریف تمہارے لیے ہیلی کاپٹر بھی نہ پہنچ سکا تو کیا ہوگا؟ ہم تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر عوام خود نکل کر حکمرانوں کا گھیراؤ کرنے لگیں ان کا گھروں سے نکلنا مشکل کردیں، جگہ جگہ انہیں پکڑنا شروع کردیں، حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہوگا، امیر جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حسینہ واجد بھارت فرار ہوگئیں، لیکن شہباز شریف کو ہیلی کاپٹر تک پہنچنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔ کراچی میں گیس اور بجلی کے بھاری بل، عوام دشمن معاہدوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف گورنر ہاؤس پر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران غیرت کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تو ان کا حال بھی بنگلادیش کی طرح ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرداری اور شہباز شریف، اگر تمہارے لیے ہیلی کاپٹر بھی نہ پہنچ سکا تو کیا ہوگا؟ حسینہ واجد کو تو بھارت نے ائیر لفٹ کر لیا، لیکن شہباز شریف صاحب، یہاں ایسا نہ ہو کہ آپ کو ائیر لفٹ بھی نہ ملے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر ملکیوں کا قبضہ ہو چکا ہے، اور ہم اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ بین الاقوامی ادارے پاکستانی قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں ملازمت پیشہ لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متوسط طبقے کے لوگ ٹیکس جمع کروائیں یا اپنے گھر چلائیں؟

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم تصادم نہیں چاہتے، لیکن اگر عوام خود نکل کر حکمرانوں کا گھیراؤ کرنے لگیں تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ وزیراعظم صاحب، پہلے تو آپ فرار ہوتے رہے ہیں، کہیں حالات ایسے نہ ہو جائیں کہ آپ کو نہ لانچ پکڑنے کا موقع ملے نہ ایئرپورٹ جانے کا۔ ہم کہتے ہیں کہ وزیراعظم عوام کے مطالبات پورے کریں اور انہیں ریلیف فراہم کریں۔ جعلی ٹیکسز اور سود کی معیشت کو ختم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فارم 45 کے مطابق فیصلے کیے جائیں تو وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے اتحادی گھر چلے جائیں گے۔ وزیراعظم عوام کے غضب سے بچنے کے لیے مطالبات منظور کریں، ورنہ یہ تحریک حکومت گرانے کی تحریک میں بدل جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مطالبات عوام کا جائز حق ہیں، انہیں تسلیم کیا جائے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو لاہور، پشاور، اور کوئٹہ کے گورنر ہاؤس پر بھی دھرنے دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہیں بند کر دی جائیں گی، اور جماعت اسلامی کی تحریک اپنے سروں سے ظالم حکمرانوں کو ہٹانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے پہلے مرحلے میں 7 نکاتی ایجنڈہ رکھا ہے، جس میں بجلی کی قیمت کم کرنا اور اس کی لاگت کے مطابق بل بھیجنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اس سے قبل کہ ہم عوام سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی اپیل کریں، حکمران ہوش کے ناخن لیں۔