رات جو ہوا قانون کے مطابق ہوا ، یہ واقعات کا تسلسل ہے، ردعمل تو آئے گا، وزیر دفاع

0
129

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ رات کو جو کچھ ہوا وہ قانون کے مطابق تھا، اور اگر کوئی صوبہ وفاق پر حملے کی بات کرے گا تو اس کا ردعمل آئے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت سپیکر ایاز صادق نے کی، جہاں خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ اگر کل کا واقعہ اکیلا ہوتا تو سب اس کی مذمت کرتے، لیکن کل جو ہوا وہ واقعات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے نو مئی کے واقعات یاد کرائے، جب فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور شہدا کی توہین کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ ان کا تو صرف چیئرمین گرفتار ہے، جبکہ ان کے لیڈر کو پورے خاندان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ گزشتہ رات ریاست نے احتجاج کیا اور صحافیوں نے بھی احتجاج کیا، اس پر کسی کو کیا اعتراض ہے؟ خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ رات جو کچھ ہوا وہ قانون کے مطابق تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کا وجود ایک شخص کے وجود سے وابستہ کیا جا سکتا ہے؟ اگر پنجاب پر حملے کی بات ہوگی تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا، اور جب آپ کہیں خان نہیں تو پاکستان نہیں، تو اس کا کیا ردعمل ہونا چاہیے؟

مسلم لیگ ن کے رہنما نے علی امین گنڈاپور کے بیان کا بھی ذکر کیا، کہ دو دن گزر چکے ہیں اور 13 دن باقی ہیں، اور ان کے لشکر کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے علی محمد خان کی اسمبلی میں موجودگی کو رنگ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں، اور پھر درود شریف پڑھتے ہیں۔ خواجہ آصف نے تنقید کی کہ ان کی چیخیں اس وقت نکل رہی ہیں جب ان کی دم پر پیر رکھا گیا ہے، اور سوال کیا کہ کس نے کہا تھا کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مخالفین ضمیر بیچ چکے ہیں اور شور مچا رہے ہیں، جبکہ یہ کابینہ آرٹیکل 6 کا حصہ تھی، جو کہ صرف رنگ بازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو ہمیشہ فوج سے بات کرنے کا ذکر کرتے ہیں، جو کہ ان کے سیاسی ڈی این اے کا نقص ہے، کیونکہ جب آپ فوج کے ذریعہ لانچ ہوتے ہیں تو آپ بار بار اپنی اصل کی طرف ہی واپس آتے ہیں۔