سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ سے اراکین کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا

0
106
Pakalerts.pk

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ میں اراکین کی گرفتاری کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو فوری طور پر چیمبر میں طلب کر لیا۔ اجلاس کے دوران، اسپیکر نے کہا کہ رات کو پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا اس کا سخت نوٹس لینا ضروری ہے، اور انہوں نے پارلیمنٹ کے تمام گیٹس اور اندر کی فوٹیجز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، بشمول گیٹ نمبر ایک، پانچ، اور کیبنٹ کی طرف والے گیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز۔

سردار ایاز صادق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں پارلیمنٹ پر پہلا حملہ ہوا تھا، جس پر انہوں نے اس جماعت کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی، اور اب بھی کل کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ انہوں نے علی محمد خان، سید نوید قمر، اور اعظم نذیر تارڑ کو چیمبر میں بلا کر بات کرنے کی بھی دعوت دی۔

اسی معاملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کل کا واقعہ الگ تھلگ ہوتا تو سب اس کی مذمت کرتے، لیکن یہ واقعات کا تسلسل ہے، جیسے نو مئی کو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور شہدا کی توہین کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کا وجود کسی ایک شخص کے وجود سے وابستہ ہے؟ صوبائی حملوں پر کیا ردعمل ہونا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے، اور خان نہیں تو پاکستان نہیں کی بات پر کیا ردعمل آنا چاہئے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے علی امین گنڈاپور کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دو دن گزر چکے ہیں، اور وہ لشکر لے کر آئیں گے۔ انہوں نے علی محمد خان پر الزام عائد کیا کہ وہ اسمبلی میں رنگ بازی کر رہے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت نے کسی بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی اصل سیاسی شناخت فوج سے ہی وابستہ ہے، اور جب بھی بات کرتے ہیں تو فوج کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں۔