پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کی منظوری کے بعد یہ آرڈیننس باقاعدہ قانون بن چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس تبدیلی کے تحت جسٹس امین الدین خان کو تین رکنی ججز کمیٹی میں شامل کر دیا گیا ہے، جبکہ جسٹس منیب اختر کو کمیٹی سے باہر کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے، جو سپریم کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے اس تبدیلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ یہ تین رکنی کمیٹی بینچز تشکیل دینے اور انسانی حقوق کے مقدمات کا جائزہ لینے کے فرائض انجام دیتی ہے۔
یہ اہم قانونی پیش رفت صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد ممکن ہوئی، جب انہوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر باقاعدہ دستخط کر کے اس کو جاری کیا۔ یاد رہے کہ اس آرڈیننس کی منظوری وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے دی تھی۔
نئے قانون کے تحت، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2 کی ذیلی شق کے مطابق، ایک کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد کردہ جج پر مشتمل ہوگی۔ اس قانون کے ذریعے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے مقدمات مقرر کرنے کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
آرڈیننس کے تحت، کیسز کی سماعت کے لیے چیف جسٹس، سینئر جج اور چیف جسٹس کا نامزد کردہ جج فیصلہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قانون میں ترمیم کے مطابق، مقدمات میں مفاد عامہ کی وجوہات دینا ضروری ہوگا۔




























