آئینی ترامیم پر حکومت کو عوامی رائے لینے کا حکم دینے کی درخواستیں دائر

0
86
Pakalerts.pk

ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت کو عوامی رائے لینے کا حکم دینے کی درخواستیں دائر کردی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ، بلوچستان ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں بھی کل اسی نوعیت کی پٹیشن فائل ہونے کا امکان ہے۔

وکلاء کی جانب سے دائر کردہ ان اہم درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئینی ترامیم کے ممکنہ ڈرافٹ کو ویب سائٹ پر شائع کیا جائے اور حکومت کو عوامی رائے لینے کا حکم دیا جائے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ وکلاء نے درخواست کی ہے کہ ڈرافٹ کی اشاعت کے بعد عوامی رائے کے لیے 8 ہفتے کا وقت دیا جائے۔

سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی ہے، جس میں انہوں نے آئینی ترامیم کے ڈرافٹ کو عوام کے سامنے لانے کی استدعا کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے دوران بھی عوامی رائے لی گئی تھی، اور اس بار بھی عوام کو رائے دینے کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے ایک دن کا وقت دینا جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اور قومی اسمبلی کے اپنے قوانین بھی مجوزہ قانون سازی کو آفیشل گزٹ میں شائع کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

دوسری جانب، سابق سینیٹر بشریٰ گوہر نے پشاور ہائیکورٹ میں آئینی ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ بشریٰ گوہر نے اپنی درخواست میں آئینی ترامیم کے مسودے کو پبلک کرنے کی استدعا کی، اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے لیے عوامی رائے لینے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترامیم پر عوامی تحفظات ہونے کی صورت میں مشاورت کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔