پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں عدالتی اصلاحات پر مبنی آئینی ترامیم کا پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان ترامیم پر غور کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیے جائیں گے۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کی منظوری جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور حکومت اس سلسلے میں ان سے رابطے میں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے آئینی عدالت کے قیام کے تصور کی حمایت کی ہے، تاہم وہ ججز کی تعداد، تقرر کا طریقہ کار، مدت، ریٹائرمنٹ کی عمر اور سروس اسٹرکچر جیسے اہم نکات پر وضاحت چاہتے ہیں۔ عرفان صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ مجوزہ آئینی عدالت کی نوعیت وفاقی ہوگی اور اس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی۔
انہوں نے ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان اور صوبائی چیف جسٹسز کا ججز کی تقرری میں بڑا کردار تھا۔ 2010 میں منظور کی گئی 18ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا تاکہ تقرریوں میں توازن پیدا کیا جا سکے۔
عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ میثاق جمہوریت، جس پر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان 2006 میں اتفاق ہوا تھا، میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز شامل تھی، اور اس وقت عمران خان سمیت دیگر اہم سیاسی رہنما بھی اس کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے غیر ارادی طور پر 19ویں ترمیم منظور کی تھی، جس نے عدالتی تقرریوں میں پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو کمزور کر دیا تھا۔ موجودہ تجویز کا مقصد 18ویں ترمیم کی طرف لوٹنا اور پارلیمنٹ کو زیادہ مؤثر کردار دینا ہے۔




























